اسرائیل نے ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ بورڈ کو قبول کرنے سے انکار کردیا
بورڈ کا مقصد غزہ میں انتظامیہ اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرنا اور علاقے میں استحکام قائم کرنا تھا
اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت تشکیل کیے گئے غزہ انتظامی بورڈ کو مسترد کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بورڈ کی تشکیل کے بارے میں اسرائیلی حکام سے مشاورت نہیں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے اسے فوری طور پر رد کر دیا گیا ہے۔
یہ اعلان اس کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ بورڈ کے لیے افراد کی تقرری کی تھی۔
اس بورڈ کا مقصد غزہ میں انتظامیہ اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرنا اور علاقے میں استحکام قائم کرنا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان نے کہا، “یہ تجویز اسرائیلی حکام کے ساتھ شیئر نہیں نہیں کی گئی تھی۔ غزہ بورڈ کے قیام کے بارے میں ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، لہذا، ہم اس کی تشکیل کو مسترد کر تے ہیں۔”
مزید پڑھیں: ملک میں فسادات کے پس پردہ امریکا اور اسرائیل ہیں، ایرانی صدر
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے وزیرخارجہ کو غزہ بورڈ کی تشکیل کا مسئلہ امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق، غزہ بورڈ کی تجویز اسرائیل کی حفاظتی پالیسی کے اہداف سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبے کے تحت بورڈ کے منتخب اراکین سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی نگرانی کریں گے، جبکہ بورڈ بین الاقوامی امداد کے انتظام اور غزہ کی مقامی حکومت کے ہم آہنگی کے امور کو سنبھالنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق یہ اقدام ان کے علاقے میں سکیورٹی اور سیاسی کنٹرول میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بورڈ کی مخالفت غزہ میں بیرونی قوتوں کے ذریعے حکومتی اصلاحات کے چیلنجز کو ظاہر کرتی ہے، کیونکہ غزہ کی پیچیدہ سیاسی اور حفاظتی صورتحال کے پیش نظر بین الاقوامی تجاویز کو مقامی مفادات اور جاری تنازعات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا پڑتا ہے۔
یہ اختلاف اگلی امن بات چیت میں نمایاں کردار ادا کرے گا، جہاں امریکی اور اسرائیلی حکومتیں بورڈ کی حیثیت اور امن منصوبے کے اگلے اقدامات کا تعین کرنے کی کوشش کریں گی۔