برطانیہ اور فرانس نے یوکرین میں فوج تعینات کرنے کا اعلان کردیا
اعلان کو یوکرین کے لیے طویل المدتی سیکیورٹی ضمانتوں کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے
پیرس : برطانیہ اور فرانس نے اعلان کیا ہے کہ امن معاہدہ طے پانے کی صورت میں دونوں ممالک یوکرین میں اپنی افواج تعینات کریں گے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق فرانس کے شہر پیرس میں یوکرین کے معاملے پر ہونے والے اہم اجلاس کے بعد برطانیہ اور فرانس نے اعلان کیا ہے کہ امن معاہدہ طے پانے کی صورت میں دونوں ممالک یوکرین میں اپنی افواج تعینات کریں گے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کے ہمراہ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جسے یوکرین کے لیے طویل المدتی سیکیورٹی ضمانتوں کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق یہ اعلان یوکرین میں امن معاہدے کے بعد افواج کی تعیناتی کے عزم کا اظہار ہے، جس کا مقصد یوکرین کی سلامتی کو یقینی بنانا اور اس کی مسلح افواج کی ازسرِ نو تنظیم اور بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہے مجوزہ ’’ملٹی نیشنل فورس فار یوکرین‘‘ ایک ری ایشورنس فورس کے طور پر کام کرے گی اور جنگ کے بعد امن و استحکام کی بحالی میں کردار ادا کرے گی۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد برطانیہ اور فرانس یوکرین بھر میں فوجی مراکز اور ملٹری ہبز قائم کریں گے، جہاں اسلحہ اور فوجی سازوسامان کے محفوظ ذخیرے بنائے جائیں گے اور زمینی تعیناتی کو ممکن بنایا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ کسی بھی جنگ بندی کی نگرانی اور تصدیق کے لیے امریکا کی قیادت میں ہونے والے عمل میں بھی شریک ہوگا۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کا کہنا تھا کہ یوکرینی فوج جارحیت کی روک تھام میں فرنٹ لائن پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور امن کے قیام کے لیے ٹھوس اور قابلِ عمل ضمانتیں ناگزیر ہیں۔
اجلاس میں شریک یوکرینی صدر زیلنسکی نے اس پیشرفت کو ’’اہم اور بامعنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اور تحریری سیکیورٹی ضمانتوں پر مبنی معاہدے ہیں۔
