چینی کمپنی نے ٹیسلا سے الیکٹرک گاڑیوں کی حاکمیت چھین لی

نیویارک:  امریکی الیکٹرک وہیکل ساز کمپنی ٹیسلا سے دنیا کی سب سے بڑی ای وی بنانے والی کمپنی کا اعزاز چینی کمپنی نے چھین لیا۔

مغربی میڈیا کے مطابق بڑھتے عالمی مقابلے، امریکی ٹیکس کریڈٹس کے خاتمے اور برانڈ بیک لیش کے باعث امریکی الیکٹرک وہیکل ساز کمپنی ٹیسلا دنیا کی سب سے بڑی ای وی بنانے والی کمپنی کا اعزاز کھو بیٹھی ہے۔

دوسری جانب چین کی بی وائی ڈی پہلی بار سالانہ بنیادوں پر ٹیسلا سے آگے نکل گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2025 میں عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 28 فیصد اضافہ ہوا۔

تاہم ٹیسلا کی سالانہ فروخت مسلسل دوسرے سال کم ہوئی اور تقریباً 8.6 فیصد کمی کے ساتھ 16 لاکھ 40 ہزار گاڑیوں تک محدود رہی، جبکہ بی وائی ڈی نے یورپ میں تیزی سے پھیلاؤ کے باعث ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دیا۔

ٹیسلا کو خاص طور پر یورپ میں سخت مسابقت کا سامنا ہے، جہاں بی وائی ڈی، ووکس ویگن اور بی ایم ڈبلیو جیسی کمپنیوں نے اس کے مارکیٹ شیئر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایلون مسک کی توجہ روبوٹیکسیز اور ہیومنائیڈ روبوٹس جیسے منصوبوں پر مرکوز ہونے سے بنیادی آٹو بزنس کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

امریکہ میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 7,500 ڈالر کے وفاقی ٹیکس کریڈٹ کے خاتمے نے بھی ٹیسلا کی طلب کو متاثر کیا۔

چوتھی سہ ماہی میں ٹیسلا نے 4 لاکھ 18 ہزار 227 گاڑیاں ڈیلیور کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15.6 فیصد کم ہیں اور مارکیٹ اندازوں سے بھی کم رہیں۔

ادھر امریکی مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ کم ہو کر 6.2 فیصد رہ گیا، جبکہ گاڑیوں کی اوسط قیمت تقریباً 6 ہزار ڈالر اضافے کے بعد 53 ہزار 300 ڈالر تک پہنچ گئی۔

ان عوامل کے باعث ٹیسلا کے شیئرز میں کاروباری دن کے دوران تقریباً 2 فیصد کمی دیکھی گئی۔

دوسری جانب بی وائی ڈی نے بتایا کہ چین سے باہر اس کی فروخت 2025 میں ایک ملین گاڑیوں تک پہنچ گئی، جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً 150 فیصد اضافہ ہے، اور کمپنی نے 2026 میں بیرونِ چین فروخت کو 16 لاکھ تک لے جانے کا ہدف ظاہر کیا ہے۔

ٹیسلا نے مانگ برقرار رکھنے کے لیے ماڈل وائی اور ماڈل تھری کے سستے ’’اسٹینڈرڈ‘‘ ورژنز متعارف کروائے، تاہم بعض سرمایہ کار اس اقدام سے مطمئن نظر نہیں آئے۔

اس کے باوجود 2025 میں ٹیسلا کے شیئرز کی مجموعی قدر میں 11.4 فیصد اضافہ ہوا، جس سے ایلون مسک کی دولت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔

Related posts

کم جونگ اُن کی بیٹی کے لباس نے سب کی توجہ حاصل کرلی، کیا وہ اگلی رہنما بننے کی تیاری کررہی ہیں؟

‘دبئی شہر نہیں ہے، دبئی ایک آئیڈیا ہے’: کاروباری شرد اگروال 1989 میں آنے کے بعد کبھی کیوں نہیں چھوڑے

دبئی میں زیر تعمیر بلند عمارت میں آگ بھڑک اٹھی