افراط زر کے خطرات؛ شرح سود 11 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان

افراط زر کے خطرات؛ شرح سود 11 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان

گورنر اسٹیٹ بینک کی زیر صدارت آج مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔

کراچی: افراط زر کے خطرات کے پیش نظر شرح سود 11 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کی زیر صدارت آج مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں رواں مالی سال کی چوتھی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔

اجلاس میں معاشی حالات، بیرونی قرضہ اور دیگر اہم اشاریوں پر غور کیا جائے گا جبکہ شرح سود میں تبدیلی یا برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کہ افراط زرکے خطرات کے باعث شرح سود 11 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان ہے، آنے والے مہینوں میں افراطِ زر 6 سے 8 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے، سیلاب کے بعد خوراک و ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں عدم استحکام تاحال برقرار ہے۔

یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے اکتوبر 2025 میں بھی شرح سود کو برقرار رکھا تھا جبکہ نئے مالی سال کے آغاز سے پالیسی ڈسکاونٹ ریٹ برقرار ہے۔

اسٹیٹ بینک نے آخری بار مئی 2025 میں 100 بیسس پوائنٹس کم کیے تھے، تاہم مرکزی بینک جون 2024 سے اب تک شرحِ سود 1100 بیسس پوائنٹس کم کر چکا ہے۔

Related posts

بھارت سے شکست؛ پاکستان کا ہاکی ورلڈکپ میں سفر ختم

حکومت کا ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے کمی کا اعلان

وفاقی حکومت نے پانچ برسوں میں ایندھن کی مد میں کتنے اخراجات کیے؟