کراچی: بھارت کے وزیر دفاع کی جانب سے سندھ کو بھارت کا حصہ قرار دینے والے بیان کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش کر دی گئی۔
سندھ اسمبلی کے اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت اجلاس 15 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔
اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان محدود حاضری کے ساتھ موجود تھے، جبکہ قائد ایوان وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور قائد حزب اختلاف علی خورشیدی اجلاس کے آغاز پر غیر حاضر تھے۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت سے سندھ حکومت کو بڑا ریلیف، ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار
اجلاس کا مرکزی ایجنڈا بھارت کے وزیر دفاع کی جانب سے سندھ کو بھارت کا حصہ بنانے والے بیان کے خلاف قرارداد تھی، جو پیپلز پارٹی کے رکن مکیش چاولہ نے پیش کی۔
ایم کیو ایم کے رکن مہیش کمار نے بھی ایوان میں قرارداد پیش کی، قرارداد پر ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بھارت کے بیان کی سخت مذمت کی اور یہ واضح کیا کہ سندھ ہمیشہ پاکستان کا حصہ رہے گا۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بھارت کی گیدڑ بھبکیاں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی، سندھ قیامت تک پاکستان کا حصہ رہے گا، مودی حکومت دریا کو ہتھیار بنا کر استعمال کرنا چاہتی ہے جس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سندھ میں آثار قدیمہ بھی غیر محفوظ، چور کوٹ ڈیجی قلعہ سے تاریخی توپ لے اڑے
انہوں نے بھارت کے وزیر دفاع کے بیان کو کھسیانی بلی کے کھنبا نوچنے کے مترادف قرار دیا۔
پیپلز پارٹی کے دیگر ارکان نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم سب کے سامنے ہیں اور پاکستان کی افواج ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے ارکان نے بھی بھارت کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کو افواج پاکستان کا مقابلہ کرنے کی جرأت نہیں، پاکستان ہمیشہ ایک ہے۔
اجلاس میں دیگر امور کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی، جس میں سندھ میں سیاحت، میوزیمز اور ثقافتی اثاثوں کے تحفظ پر بات کی گئی۔
وزیر سیاحت ذوالفقار شاہ نے کہا کہ محکمہ کا سالانہ بجٹ 15 کروڑ روپے ہے، جس میں تنخواہیں بھی شامل ہیں، اور وفاق کی جانب سے کوئی اسپیشل گرانٹ نہیں دی جاتی۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سے سیاحت کے بجٹ میں اضافے کی درخواست بھی کی۔
اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے مختلف وزراء کی غیر حاضری پر بھی بحث ہوئی اور اسپیکر نے متعلقہ نوٹس پیر کے اجلاس میں زیر غور لانے کی ہدایت کی۔
