صدرمملکت اور وزیراعظم کا خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر خصوصی پیغام

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر خصوصی پیغام جاری کیاہے۔

صدر آصف علی زرداری

خواتین پر تشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے

صدر آصف علی زرداری نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے بین الاقوامی دن پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ خواتین پر تشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے،  دنیا بھر کی خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو تعلیم، ہنرمندی اور معاشی خودمختاری سے بااختیار بنانا ضروری ہے،  مضبوط قانونی ڈھانچے اور ثقافتی رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔

 صدر مملکت کا کہنا تھا کہ اس برس کا موضوع ’’تمام خواتین و لڑکیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے متحد ہوں‘‘، نہایت اہم ہے،  ڈیجیٹل دنیا میں تشدد میں اضافہ فوری توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے خواتین کے تحفظ کے لیے اہم قوانین نافذ کیے، کم عمری کی شادی کے خاتمے میں سندھ، اسلام آباد اور پنجاب پیش پیش ہیں،  دیگر صوبے بھی موثر قانون سازی کریں، قوانین کے نفاذ پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے، ہر عورت اور لڑکی کو خوف و تشدد سے آزاد زندگی ملنی چاہیے۔

آصف علی زرداری نے متاثرہ خواتین، کارکنوں اور اداروں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ، صنفی تشدد کے خلاف قومی یکجہتی کے لیے پرعزم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کے عالمی دن پر صبا قمر نے کیا پیغام دیا؟

وزیراعظم محمد شہباز شریف

حکومت پاکستان عالمی سطح پر خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی معاہدہ کو تسلیم کرتی ہے

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ  آج خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان تمام دنیا کے ساتھ اس اہم مقصد کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی آواز کو بلند کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال یہ دن ’’خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے متحد‘‘ ہونے کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے، یہ عنوان جدید دور میں خواتین کو مختلف سطحوں اور پلیٹ فارمز پر تشدد اور حراساں کیے جانے کی طرف توجہ دلاتا ہے،یہ دن ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم سوچیں اور  اس عہد کی تجدید کرتے ہوئے متحد ہو کر اس کے خلاف جدوجہد کریں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خواتین پر تشدد اور حراساں کیے جانے کے واقعات کےمکمل انسداد کے لیے ہمیں کثیرالجہتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، جامع حکمت عملی میں نہ صرف اس طرح کے واقعات کا سدباب کے اقدامات شامل ہونا چاہیے، بلکہ متاثرہ خواتین سے ہمدردی اور معاشرے کے استحصالی نظام کی اصلاح شامل ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد نہ صرف انسانیت، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ معاشرے کے امن و سکون اور ترقی و خوشحالی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، آئین پاکستان بڑے واضح الفاظ میں خواتین کی عزت و تکریم کی ضمانت دیتا ہے، آئین برابری کے حقوق فراہم کرتا ہے تاہم پھر بھی ہمارے معاشرے میں خواتین کو بہت سی صورتحال میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی معاہدہ کو تسلیم کرتی ہے، حکومتی سطح پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے  پالیسی، قانون سازی، انتظامی، ادارہ جاتی اور دیگر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، ان اقدامات میں وزیراعظم کا خواتین کو بااختیار بنانے کا وزیراعظم کا پیکج بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان تشدد سے متاثرہ خواتین کے لیے ادارہ جاتی امداد کو یقینی بنانے کی بھی بھرپور کوشش کر رہی ہے، اسی تناظر میں آزادانہ کمیشنز قائم کیے گئے ہیں، خواتین کا تحفظ سینٹر، خواتین پولیس سینٹر، ہیلپ لائنز اور تشدد سے متاثرہ خواتین کی مالی اور قانونی امداد کے لیے بھی کام کیا جارہا ہے، حکومت پاکستان خواتین کے قانونی تحفظ، انکی انصاف تک رسائی کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت پاکستان تمام متعلقہ اداروں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ بھی تعاون کو جاری رکھے گی، محض کوئی قانون یا حکومتی پالیسی خواتین پر تشدد کے مکمل خاتمے کو یقینی نہیں بنا سکتی ، جب تک معاشرے میں خواتین کے تحفظ کو مجموعی ترجیح نہ بنایا جائے اور معاشرے میں اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری ثقافت و تہذیب میں بھی خواتین کے لیے برابری، عزت و تکریم اور ہر گھر میں اس کو یقینی بنانے کی تعلیم شامل ہے،  آج پاکستان کے تمام شہریوں، نوجوانوں، تمام سماجی و مذہبی رہنما، اساتذہ سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ آئیے خواتین پر تشدد کے خلاف اور اسکے خاتمے کے لیے متحد ہو جائیں۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ آئیے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کو مضبوط اور یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم پختہ کا اعادہ کریں، پاکستان میں موجود ہر خاتون کسی بھی قسم کے خوف تشدد، استحصالی اور امتیازی سلوک سے آزاد ہو کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے، تمام متعلقہ حکومتی ادارے،  معاشرہ، سرکاری اور غیر سرکاری آرگنائزیشنز اور عالمی  تعاون مل کر ہی محفوظ، انصاف پسند اورخواتین کے لیے برابری پر مشتمل ماحول کو پاکستان میں یقینی بنا سکتے ہیں۔

Related posts

محمد بن راشد نے عوامی خدمات میں اے آئی کو اپنانے کو تیز کرنے کے لیے ‘یو اے ای گورنمنٹ 4.0’ کا آغاز کیا

پی آئی اے سمیت دیگر نجی ایئر لائنز کے مالی نتائج کی تفصیلات سامنے آ گئیں

تدویر گروپ اور الخیل اسکوائر نے ویسٹ مینجمنٹ فریم ورک تیار کرنے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں۔