بحرین میں دوسری طرحی شعری نشست کا انعقاد، اردو شاعری کی کلاسیکی روایت کا جشن

مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اردو کے زیرِ اہتمام عالمی مشاعرہ بیادِ راہی معصوم رضا کے سلسلے کی دوسری طرحی شعری نشست 21 نومبر 2025 کو نہایت وقار، شائستگی اور ادبی گرمجوشی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس نشست نے اردو شاعری کی کلاسیکی روایت کو تازہ کرتے ہوئے راہی معصوم رضا کی یاد اور ان کے ادبی مقام کو دوبارہ روشنی بخشی۔

نشست کا آغاز راہی معصوم رضا کے تعارف سے ہوا، جنہوں نے ادب، فلم اور ٹیلی وژن میں اپنی مہارت کے نقوش چھوڑے۔ راہی صاحب نے فلمی دنیا میں تین بار فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین مکالمہ نگاری حاصل کیا اور ’’مہابھارت‘‘ سمیت متعدد شاندار پروجیکٹس میں اپنی تخلیقی عظمت کا لوہا منوایا۔ ان کے فلمی اور شاعرانہ کلام نے دور دراز پردیس میں بسنے والے دلوں کو بھی متاثر کیا۔

نشست کی صدارت معروف ادیب انجینئر رضوان احمد نے کی جب کہ بحرین کے ممتاز شاعر احمد عادل مہمانِ خصوصی تھے۔ مقامی اور بین الاقوامی شعراء نے طرحی غزلیں پیش کیں جن میں خورشید علیگ، ریاض شاہد، سعید سعدی، عباس تابش اور ہندوستان کے شاعر زبیر فاروقی شامل تھے۔ ان کے اشعار کی زبان کی مٹھاس اور خیال کی لطافت نے حاضرین کو محظوظ کیا۔

مجلس کے بانی و سرپرستِ اعلیٰ شکیل احمد صبرحدی نے ڈاکٹر راہی معصوم رضا پر سری نگر یونیورسٹی میں منعقدہ بین الاقوامی سیمینار کی روداد بھی پیش کی جس سے سامعین کو راہی صاحب کے فکری کمال اور ادبی جہات سے مزید روشناس کرایا گیا۔

نشست کے اختتام پر آئندہ عالمی مشاعرے کے شیڈول اور طرحی مصرعوں کے حوالے سے آگاہی دی گئی۔ نشست کی نظامت خرّم عباسی نے بخوبی انجام دیا جس نے محفل کے حسن اور وقار میں اضافہ کیا۔

نشست میں پیش کیے گئے منتخب اشعار نے حاضرین کے دلوں کو چھولیا، آخر میں نشست میں پیش کیے گئے کلام سے منتخب اشعار آپ کی نذر ہیں:

ہم تہی دست تری بزم سے کب آئے ہیں

دامن دل میں نیا درد چھپا لائے ہیں

دامن دل میں نیا درد چھپا لاۓ ہیں

گھر کا آنگن تو نہیں وسعت صحرا کا جواب

ہم ہی دیوانے ہیں صحرا سے چلے آ‎ۓ ہیں

جس بلندی پہ پہنچ کر ہے تمہیں ناز بہت

ہم وہاں جاکے کئی بار پلٹ آئے ہیں

زبیر فاروقی

——————————

میرے احباب مرے ہم نفساں کیسے ہیں

جن سے آباد تھا یہ قریۂ جاں کیسے ہیں

کو‏‏‏ئ آتا بھی نہیں کوئ بلاتا بھی نہیں

میرے احباب جہاں بھی ہیں وہاں کیسے ہیں

شہر میں ٹھیک ہے سب کچھ تو پھر اے حاکم شہر

شب کے سناٹے میں یہ نالہ کناں کیسے ہیں

زبیر فاروقی

—————————

شہر لاہور ترے تلخ زباں  کیسے ہیں

میرے حق میں نہ سہی ان کے بیاں کیسے ہیں

ہو گئی شام ترے شہر میں پھرتے پھرتے

ہم سے پوچھا نہ کسی نے کہ یہاں کیسے ہیں

چاک رکھتے نہیں اور توڑتے جاتے ہیں ہمیں

روز آخر یہ  ترے کوزہ گراں کیسے ہیں

عباس تابش

————————-

آکے دیکھو مری یادوں کے جہاں کیسے ہیں

پھول یہ بر سرِ دامانِ خزاں کیسے ہیں

اس کے گفتار میں اعجازِ سخن  کیسا ہے

اور خمو شی میں نۓطرزِ بیاں کیسے ہیں

جن کو میں آئینے سمجھا تھا سر را ہ جنوں

جگمگاتے ترے قدموں کے نشاں کیسے ہیں

احمد عادل

———————–

خیریت ہے کہاں رہتے ہیں، میاں، کیسے ہیں

مدتوں بعد  ملے ، آپ، اماں ، کیسے ہیں

ہو گئے قتل  کے الزام سے تو آپ بری

آستیں  پر یہ مگر خوں کے نشاں  کیسے ہیں

ایک ویرانی ہے ، تنہائی ہے ،خاموشی ہے

آ کے دیکھو میری یادوں کے جہاں کیسے ہیں

خورشید علیگ

——————–

جو ہوئے عشق میں پاگل وہ یہاں کیسے ہیں

کرب چہرے پہ ہے پر زخم نہاں کیسے ہیں

شام اُتری تو یہ خاموش ہوا بول اٹھی

عشق والوں کے لیے سود و زیاں کیسے ہیں

روز بستر پہ بھی کروٹ یہ مجھے پوچھتی ہے

لوگ آباد ہیں جو دل میں وہاں کیسے ہیں

ریاض  شاہد

———————

اس نے پوچھا ہے، کہیں، آپ وہاں کیسے ہیں

کیا کہیں، ہم غمِ ہجراں میں یہاں، کیسے ہیں

کھویا کھویا سا جو رہتا ہوں میں اکثر یارو

“آ کے دیکھو مری یادوں کے جہاں کیسے ہیں”

میں تو ہربار  اسے اپنا سمجھ لیتا ہوں

دیکھ لو دل کو مرے اس پہ گماں کیسے ہیں

سعید  سعدی

——————-

طَیش  کے  پیڑ  پہ  نفرت کے  ثمر پائے ہیں

پیار نے کتنے مسائل تھے جو سُلجھائے ہیں

ہم نے حالات کا شکوہ نہ کِیا ہجرت سے

ہم مَسافَت کی تھکن ساتھ اُٹھا لائے ہیں

شہر کے شور سے اُکتائے ہوئے ہیں سب لوگ

ہم ہی دیوانے ہیں صحرا سے چلے آئے ہیں 

اسد اقبال

Related posts

تدویر گروپ اور الخیل اسکوائر نے ویسٹ مینجمنٹ فریم ورک تیار کرنے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں۔

قومی جونیئر اسکواش ٹیم میڈلز کے خواب لیے چین پہنچ گئی

ایران پر ممکنہ حملے کی بازگشت، امریکا میں نئی سیاسی کھینچا تانی شروع