شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان سرحد پر خطرناک تناؤ، جنگ کا اندیشہ بڑھ گیا

شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان سرحد پر خطرناک تناؤ، جنگ کا اندیشہ بڑھ گیا

یہ اقدام 1950-53 کی کورین جنگ کے بعد پہلی مرتبہ دیکھا جا رہا ہے، جنوبی کوریا صدر

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے اور دونوں ممالک کسی بھی لمحے ایک حادثاتی تصادم کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ نے ایک تقریب سے واپسی کے سفر میں رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے یہ شدید انتباہ جاری کیا، جسے سرکاری ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر لی کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا سیول کی جانب سے رابطے کی ہر کوشش کو مسلسل نظرانداز کر رہا ہے اور فوجی سرحد کے ساتھ خاردار تاریں نصب کر رہا ہے

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام  1950-53 کی کورین جنگ کے بعد پہلی مرتبہ دیکھا جا رہا ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر نے مزید کہا کہ دونوں کوریا کے تعلقات انتہائی مخاصمانہ سطح پر پہنچ چکے ہیں، باہمی اعتماد نہ ہونے کے باعث شمال بہت شدید رویّہ اختیار کر رہا ہے۔

جنوبی کوریا کے مطابق اس سال شمالی کوریا کے 10 سے زائد سرحدی دراندازی کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جن میں کئی مواقع پر جنوبی کورین فوج کو وارننگ شاٹس فائر کرنا پڑے۔

سیول نے 17 نومبر کو پیونگ یانگ کو فوجی مذاکرات کی پیشکش کی تھی تاکہ ملٹری ڈیمارکیشن لائن پر واضح سرحدی حدود طے کی جا سکیں اور کسی بڑے تنازع کے امکانات کو روکا جا سکے تاہم شمالی کوریا نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ جنوبی کوریا اور امریکا کی مشترکہ فوجی جاری ہیں جس کو شمالی کوریا ایٹمی جنگ کی تیاری قرار دیتا ہے۔

اس وقت تقریباً 28,500 امریکی فوجی جدید ہتھیاروں کے ساتھ جنوبی کوریا میں تعینات ہیں۔

Related posts

محمد بن راشد المکتوم لائبریری فاؤنڈیشن نے ‘دبئی آرکائیو’ کا آغاز کیا

شیخ ہمدان نے دبئی سول ڈیفنس میں ادارہ جاتی قیادت کے لیے نئے سی ای او کا تقرر کیا

بنگلا دیش نے پاکستان کو شکست کے دہانے پر پہنچا دیا، جیت کیلئے 437 رنز درکار