پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان سلہٹ میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میں میزبان ٹیم نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے پاکستان کو فتح کیلئے 437 رنز کا بڑا ہدف دے دیا ہے۔
خراب روشنی کے باعث تیسرے دن کا کھیل وقت سے پہلے ختم کردیا گیا، پاکستان اپنی دوسری اننگز کا آغاز چوتھے روز کرے گا۔
بنگلا دیش نے دوسری اننگز میں 390 رنز بنا کر پاکستان پر مجموعی طور پر 436 رنز کی برتری حاصل کی۔ پاکستان پہلی اننگز میں 232 رنز پر آؤٹ ہوگیا تھا جبکہ میزبان ٹیم نے اپنی پہلی باری میں 278 رنز اسکور کیے تھے۔
تیسرے روز کھیل کا آغاز بنگلا دیش نے 3 وکٹوں پر 110 رنز سے کیا۔ کپتان نجم الحسن شانتو اور مشفق الرحیم کریز پر موجود تھے تاہم 115 کے مجموعے پر خرم شہزاد نے شانتو کو ایل بی ڈبلیو کرکے پاکستان کو اہم کامیابی دلائی۔ شانتو 15 رنز بنا سکے۔
اس کے بعد مشفق الرحیم اور لٹن داس نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی بولرز کو طویل وقت تک مشکلات میں رکھا۔
دونوں کے درمیان 123 رنز کی اہم شراکت قائم ہوئی۔ مشفق الرحیم نے شاندار 137 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ لٹن داس 69 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
دیگر بلے بازوں میں مہدی حسن میراز 19، تیج الاسلام 22، تسکین احمد 6 اور شریف الاسلام 12 رنز بنا سکے جبکہ ناہید رانا کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے۔
پاکستان کی جانب سے خرم شہزاد نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں ساجد خان نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ حسن علی 2 اور محمد عباس ایک وکٹ لینے میں کامیاب رہے۔
اس سے قبل دوسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی اننگز 21 رنز بغیر کسی نقصان کے ساتھ دوبارہ شروع کی لیکن ابتدائی وکٹیں جلد گرنے سے ٹیم دباؤ کا شکار ہوگئی۔ اذان اویس 13 اور عبداللہ فضل 9 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ کپتان شان مسعود 21 رنز ہی بنا سکے۔
بابر اعظم نے ایک بار پھر مزاحمت کرتے ہوئے 68 رنز کی اننگز کھیلی، تاہم دوسرے اینڈ سے انہیں خاطر خواہ تعاون نہ مل سکا۔ سعود شکیل 8، سلمان آغا 21 اور محمد رضوان 13 رنز بنا سکے۔
نچلے نمبروں پر ساجد خان نے 38 اور حسن علی نے 18 رنز بنا کر کچھ مزاحمت دکھائی لیکن پوری ٹیم 232 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ بنگلا دیش کی جانب سے ناہید رانا اور تیج الاسلام نے 3،3 جبکہ تسکین احمد اور مہدی حسن میراز نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔
یاد رہے کہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں بھی بنگلا دیش نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دی تھی اور اسے دو میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔
دوسرے ٹیسٹ کیلئے پاکستانی ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئی تھیں، امام الحق، شاہین شاہ آفریدی اور نعمان علی کی جگہ بابر اعظم، خرم شہزاد اور ساجد خان کو شامل کیا گیا۔