جاپان ایک بار پھر دنیا کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کاشی وازاکی۔کاریوا کو جزوی طور پر دوبارہ فعال کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
نیگاتا صوبے کے گورنر ہیدیئو ہانازومی نے اعلان کیا کہ وہ پلانٹ کے یونٹ نمبر 6 اور بعد میں یونٹ نمبر 7 کو دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دے رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع ہوگا جب 2011 کے فوکوشیما ڈائیچی نیوکلیئر حادثے کے بعد ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) کو جاپان میں کسی نیوکلیئر ری ایکٹر کو چلانے کی اجازت ملے گی۔
فوکوشیما میں 9.0 شدت کے زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں ری ایکٹرز میں پگھلاؤ ہوا تھا، جس سے ریڈی ایشن لیک ہوئی اور ڈیڑھ لاکھ افراد کو علاقے سے نقل مکانی کرنی پڑی تھی۔
کاشی وازاکی۔کاریوا پلانٹ میں 7 ری ایکٹرز موجود ہیں اور اس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 8,000 میگاواٹ سے زائد ہے، جو اسے دنیا کا سب سے بڑا نیوکلیئر پلانٹ بناتی ہے۔
گورنر کی منظوری کے بعد اب نیگاتا کی مقامی اسمبلی دسمبر میں اس فیصلے پر بحث کرے گی جبکہ حتمی اجازت جاپان کے نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی سے حاصل کرنا باقی ہے۔
علاقائی سروے کے مطابق نیگاتا کے 50 فیصد رہائشی پلانٹ دوبارہ شروع کرنے کے حق میں جبکہ 47 فیصد مخالفت کر رہے ہیں۔ تاہم تقریباً 70 فیصد افراد کو ٹیپکو کی انتظامی صلاحیت پر تحفظات ہیں۔
جاپانی حکومت کاربن اخراج صفر کے ہدف کے لیے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کی پالیسی کے تحت نیوکلیئر انرجی کے استعمال میں اضافہ چاہتی ہے۔
فوکوشیما حادثے کے بعد جاپان نے تمام 54 نیوکلیئر ری ایکٹرز بند کر دیے تھے جن میں سے اب تک صرف 14 دوبارہ فعال ہو سکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کاشی وازاکی۔کاریوا کی بحالی نہ صرف ٹیپکو کی مالی بحالی کا حصہ ہے بلکہ جاپان کی توانائی کی طویل مدتی پالیسی میں بھی اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
