بھارت میں کھانسی کے شربت سے 24 بچوں کی ہلاکتیں؛ سنگین غفلت بے نقاب
دونوں سپلائرز کے پاس دوا سازی کے لئے درکار کیمیکل ہینڈلنگ کے لائسنس موجود نہیں تھے۔
نئی دہلی: بھارت میں آلودہ کھانسی کے شربت سے 24 بچوں کی ہلاکت کے بعد حکام نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے سنگین غلفلت کو بے نقاب کردیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست تامل ناڈو کے صحت و ڈرگ سیفٹی افسران نے بتایا کہ شبہ ہے کہ ’کولڈرف‘ کھانسی کے شربت کی تیاری میں استعمال ہونے والا کیمیکل پروپلین گلائیکول سپلائی کے وقت ہی زہریلے کیمیکل ڈائیتھائلین گلائیکول (ڈی ای جی) سے آلودہ ہوچکا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شریسان فارماسیوٹیکل مینوفیکچرر نے یہ کیمیکل 25 مارچ کو مقامی ڈسٹری بیوٹر سن رائز بایوٹیک سے خریدا جس نے اسی دن یہ پروپلین گلائیکول ایک چھوٹی کمپنی جِن کوشل اروما سے حاصل کیا تھا۔
دونوں سپلائرز کے پاس دوا سازی کے لئے درکار کیمیکل ہینڈلنگ کے لائسنس موجود نہیں تھے۔ مزید یہ کہ سن رائز بایوٹیک نے صنعتی معیار کے برعکس پروپلین گلائیکول کو بغیر حفاظتی سیل کے دوبارہ پیک کرکے سپلائی کیا جس سے آلودگی کے خطرات بڑھ گئے۔
تفتیشی رپورٹ میں شریسان فارما کی فیکٹری میں صفائی کے ناقص انتظامات، ڈیٹا میں ہیرپھیر اور متعدد سنگین خلاف ورزیاں بھی سامنے آئیں۔
حکام کے مطابق فیکٹری میں ’’سینکڑوں اہم اور بڑی خلاف ورزیاں‘‘ پائی گئیں تاہم انہیں براہ راست بچوں کی ہلاکت سے نہیں جوڑا گیا۔ کمپنی کا لائسنس منسوخ کردیا گیا ہے جب کہ اس کے بانی جی۔ رنگاناتھن حراست میں ہیں۔
خیال رہے کہ بھارتی فارما سیکٹر پہلے بھی 2022 اور 2023 میں افریقہ اور وسطی ایشیا میں بچوں کی اموات کے باعث سخت تنقید کی زد میں آچکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات کم قیمت کے لالچ میں زہریلا ڈی ای جی غلطی سے یا جان بوجھ کر مہنگے پی جی کے متبادل کے طور پر استعمال کرلیا جاتا ہے جو بچوں کیلئے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
دوسری جانب بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دوا ساز کمپنیوں کی مزید جانچ اور بچوں کے لیے کھانسی کے شربت کے استعمال کے حوالے سے پالیسیاں ازسرِنو دیکھ رہے ہیں۔