آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے خطرے کی گھنٹی بجادی

 پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے معاملے پرصورت حال سنگین ہوتی جا رہی ہے، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے  خطرے کی گھنٹی بجادی۔

سندھ حکومت کی بینک گارنٹی کے مطالبے پر آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی)  نے وزارت توانائی، پیٹرولیم ڈویژن کو ہنگامی خط ارسال کردیا، جس میں صورت حال کی سنگینی  سے آگاہ کیا گیا ہے۔

او سی اے سی  کا کہنا ہے کہ بینک گارنٹی کا مسئلہ برقرار رہا تومستقبل میں  پیٹرولیم مصنوعات کی امپورٹ نہیں کی جاسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کا خدشہ عارضی طور پر ٹل گیا

 خط  میں کہا گیا کہ امپورٹ نہ ہونے کی صورت میں سپلائی چین کے اثرات کی ذمہ دار انڈسٹری نہیں ہوگی، کئی سال سے حکومتوں کو اس مسئلے کے حل کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ وزارت توانائی کی فوری مدد ایندھن کی بلا تعطل سپلائی  کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے۔

خط میں یہ بھی بتایا گیا کہ پیٹرولیم صنعت کی طرف سے ہر ماہ 20 سے 25 کنسائنمنٹس درامد کیے جاتے ہیں ایک کنسائنمنٹ 15 سے 25 ارب روپے کا ہوتا ہے، صنعت میں کوئی بھی رکن اس حد تک بینک گارنٹی فراہم کرنے کی مالی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔

Related posts

متحدہ عرب امارات نے سوڈان کے العبید میں شہریوں کے لیے 30 ملین امریکی ڈالر کی ہنگامی امداد مختص کی ہے۔

متحدہ عرب امارات کا موسم: ہلکی ہواؤں اور پرسکون سمندروں کے ساتھ درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا

متحدہ عرب امارات کی الفرسان ٹیم نے امریکہ کی 250ویں آزادی کی تقریبات میں تاریخی یو ایس ڈیبیو کیا