افغانستان نے سرحدی علاقوں میں فوج بھیج دی ، بلا اشتعال فائرنگ،شدید جھڑپیں

افغانستان نے سرحدی علاقوں میں فوج بھیج دی ، رات گئے تک شدید جھڑپیں جاری رہیں، درجنوں افغان فوجی اور خوارجی ہلاک ہوگئے ۔ دونوں جانب سے شدید گولہ باری اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، افغان فورسز اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہوگئیں ۔

کابل میں مبینہ طور پر ٹی ٹی پی قیادت کو ہدف بنائے جانے کے بعد سے پاکستان اور افغانستان میں تعلقات کشیدہ  ہیں۔

دونوں جانب سے  بیانات کا سلسلہ جاری  تھا ۔ ہفتے کی شب اس کشیدگی میں اضافہ دکھائی دیا ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے افغانستان کو واضح پیغام دیا گیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے افغان سفیر کو طلب کرکے افغانستان اور بھارت کے مشترکہ اعلامیے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

جس کے بعد سرحد پر کشیدگی میں بھی اضافہ  ہوگیا ۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاک افغان سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہوچکی ہیں۔

پاکستان کی جانب سے افغان توپ خانوں سے گولہ باری اور بلااشتعال فائرنگ کا بھر پور جواب دیاگیا۔ افغان حکام یا پاکستان کی جانب سے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا  گیا ۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان فورسز نے پاک افغان بارڈر پر انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال، اور بارام چاہ (بلوچستان) کے مقامات پر بِلا اشتعال فائرنگ کی۔

فائرنگ کا مقصد خوارج کی تشکیلوں کو بارڈر پار کروانا بھی تھا۔  پاکستان فوج کی چوکس اور مستعد پوسٹوں کی جانب سے تیزی کے ساتھ بھرپور اور شدید جواب دیا گیا جو اب بھی جاری ہے،

پاک فوج نے فوری طور پر شدید رد عمل  دیتے ہوئے  متعدد افغانی پوسٹوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی بروقت کاروائی سے افغانستان کی متعدد بارڈر پوسٹیں تباہ اور درجنوں افغان فوجی اور خارجی ہلاک ہوگئے۔

طالبان اپنی متعدد پوسٹیں چھوڑ کر  بھی فرار، لاشیں بکھری ہوئی ہیں۔

افغانستان کی جانب سے یہ جارحیت اُس وقت کی جا رہی ہے جب افغان وزیر خارجہ ہندوستان کا دورہ کر رہا ہے۔

Related posts

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں معمولی کمی، فی تولہ کیا رہی؟

رجب بٹ کو سلمان خان کی نقل کرنا مہنگا پڑ گیا

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں اتارچڑھاؤ، 100 انڈی کس 660 پوائنٹس گرگیا