مسلم ممالک کا غزہ میں جنگ بندی اور دو ریاستی حل پر زور، ٹرمپ امن منصوبے کی حمایت کردی

مسلم ممالک نے غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے اور مستقل امن کے قیام کے لیے امریکہ اور دیگر فریقین کے ساتھ مثبت اور تعمیری بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ فریقین معاہدے کو حتمی شکل دینے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی کوششوں میں سنجیدہ ہیں۔

اعلامیہ کے مطابق امریکا کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدے پر کام کیا جائے گا، جس میں غزہ کو مکمل انسانی امداد کی فراہمی، فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی روک تھام، مغویوں کی رہائی اور تمام فریقین کے لیے سکیورٹی کی ضمانت شامل ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا، غزہ کی تعمیرِ نو اور دو ریاستی حل کے تحت غزہ و مغربی کنارے کو ایک فلسطینی ریاست میں ضم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں صدر ٹرمپ کے مجوزہ جنگ بندی منصوبے کو سراہا اور کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کے مطابق خطے کے امن و سلامتی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ مسلم ممالک ہر اس کوشش کا خیرمقدم کریں گے جو غزہ میں انسانی المیے کے خاتمے اور فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے میں مددگار ثابت ہو۔

Related posts

دبئی فیوچر سلوشنز پروگرام متحدہ عرب امارات کی توسیع میں عالمی یونیورسٹی اسٹارٹ اپس کو آگے بڑھاتا ہے۔

ایران شکست مان لے تو بھی اسے فاتح کہیں گے، ٹرمپ امریکی میڈیا پر برس پڑے

ترکیہ میں فائرنگ؛ 4 افراد جاں بحق اور 8 زخمی