سابق صوبائی وزیر باری پتافی نے روزگار مانگنے والے نوجوان کو تھپڑ جڑ دیا

گھوٹکی: سابق صوبائی وزیر باری پتافی نے روزگار کی درخواست کرنے والے بے روزگار نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک نوجوان اپنی درخواست لے کر باری پتافی کے پاس پہنچا اور گاڑی میں بیٹھے ہوئے ان سے ملازمت کے حوالے سے گزارش کرنے لگا۔

عینی شاہدین کے مطابق نوجوان بار بار اپنی درخواست پیش کرتا رہا مگر باری پتافی نے بات سنے بغیر اچانک اسے تھپڑ دے مارا۔ واقعے کے بعد موقع پر موجود لوگوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور باری پتافی کے رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کو عوام کی بات سننی چاہیے مگر اس طرح کے رویے سے نوجوانوں میں مزید مایوسی اور اشتعال بڑھتا ہے۔ واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر صارفین نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

سابق صوبائی وزیر باری پتافی کی جانب سے تھپڑ مارنے کے واقعے پر متاثرہ طالب علم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر کے ساتھ کسی قسم کی بدتمیزی نہیں کی۔ طالب علم کا کہنا تھا کہ وہ صرف اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھنا چاہتے تھے لیکن اچانک باری پتافی نے تھپڑ دے مارا جس سے ان کا موبائل نیچے گر کر ٹوٹ گیا۔

واقعے کے بعد علاقے میں طلبہ نے شدید احتجاج کیا اور باری پتافی کے خلاف نعرے بازی کی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کو مسائل سننے چاہییں نہ کہ نوجوانوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی باری پتافی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Related posts

دبئی نے ‘ہماری لچکدار سمر’ کے 2026 ایڈیشن کے ساتھ مزید لچکدار سرکاری کام کے ماحول کو آگے بڑھایا۔

ایران ہمارے ساتھ اچھی ڈیل چاہتا ہے تو ہم بھی تیار ہیں، مارکو روبیو

چائلڈ سیفٹی آرگنائزیشن نے شارجہ میں والدین اور بچوں کے تحفظ کے اقدام کا آغاز کیا۔