بینظیر انکم سپورٹ پروگرام غریبوں کی بقا اور وقار کا سہارا ہے، چیئرپرسن روبینہ خالد

اسلام آباد: چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ اس پروگرام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ صرف غریبوں کی بقا اور وقار کا سہارا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ پروگرام پاکستان کا سب سے بڑا فلاحی منصوبہ ہے جو لاکھوں خاندانوں کی زندگی بہتر بنا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس پروگرام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ صرف غریبوں کی بقا اور وقار کا سہارا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا آڈٹ باقاعدہ طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے جبکہ اس کی مانیٹرنگ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک جیسے عالمی ادارے کرتے ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک اس پروگرام سے سیکھنے آ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل افراد کے لئے بڑی خوشخبری

انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کے تحت ایک کروڑ دس لاکھ بچے تعلیمی وظائف حاصل کر رہے ہیں، جن میں سے اس سال 400 سے زائد نے شاندار گریڈ حاصل کیے جبکہ 4 بچوں نے ٹاپ کیا۔ اس کے علاوہ بینظیر نشوونما پروگرام کے ذریعے ماں اور بچے دونوں کی بہتر زندگی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

چیئرپرسن نے کہا کہ 2022 کے سیلاب کے دوران بی آئی ایس پی نے 70 ارب روپے کی ہنگامی امداد فراہم کی، جس کے تحت 28 لاکھ متاثرہ خاندانوں کو فی کس 25 ہزار روپے نقد امداد دی گئی۔ کورونا وبا کے دوران بھی اسی پروگرام کے ذریعے لاکھوں خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا گیا۔

روبینہ خالد نے کہا کہ ایک سیاسی رہنما نے بی آئی ایس پی کو فراڈ قرار دے کر ایک کروڑ خاندانوں کی توہین کی ہے۔ یہ بیان نامناسب ہے اور انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے دوٹوک کہا کہ اگر کسی کو اس پروگرام کے نام سے تکلیف ہے تو بھی اس کا نام تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی نے شفافیت، رفتار اور وسیع رسائی کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے اور یہ ہی وہ پروگرام ہے جو سیلاب زدگان سمیت ضرورت مندوں کو بروقت اور بہتر سہولیات فراہم کر سکتا ہے۔ چیئرپرسن نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس مطالبے کی بھی حمایت کی کہ متاثرین کو ریلیف بی آئی ایس پی کے ذریعے دیا جائے کیونکہ یہ سب سے مؤثر نظام ہے۔

Related posts

ساقر غوباش اور جرمن رکن پارلیمان نے علاقائی کشیدگی اور سلامتی کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔

ملکی درآمدات بند؛ سونا مزید مہنگا ہونے کا خدشہ

دبئی آر ٹی اے نے ہیسا اسٹریٹ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کھول دیا، سفر کے وقت کو چار منٹ تک کم کر دیا۔