دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب، حفاظتی بند مضبوط بنانے کا عمل تیز

سکھر: دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے اور اونچے درجے کے ممکنہ سیلاب کے پیش نظر محکمہ آبپاشی نے ہنگامی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔

 گڈو بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب پہنچ چکا ہے جبکہ سکھر اور کوٹری بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال ریکارڈ کی گئی ہے۔

محکمہ آبپاشی کے مطابق گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 70 ہزار کیوسک ہے جبکہ گڈو بیراج سے 3 لاکھ 54 ہزار کیوسک پانی سکھر بیراج کی طرف چھوڑا جا رہا ہے۔

سکھر بیراج پر پانی کی سطح 3 لاکھ کیوسک تک پہنچ گئی ہے یہاں سے 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی کوٹری بیراج کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے۔

کوٹری بیراج پر پانی کی سطح 2 لاکھ 66 ہزار کیوسک ہو چکی ہے جبکہ 2 لاکھ 37 ہزار کیوسک پانی سمندر میں چھوڑا جا رہا ہے۔

چیف انجینئر گڈو بیراج سید سردار شاہ کے مطابق کے کے بند کے کمزور حصوں میں پتھر بچھانے کا عمل تیزی سے جاری ہے، اب تک 400 سے زائد ٹرک اور ٹرالیاں پتھر کے ساتھ بند پر اُتاری جا چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ آبپاشی کا عملہ کے کے بند پر مکمل نگرانی کر رہا ہے اور تمام ضروری مشینری و افراد تعینات ہیں، کے کے بند اور غوث پور بند دونوں کو محفوظ اور مضبوط بنانے کے لیے 24 گھنٹے کام جاری ہے۔

محکمہ آبپاشی نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محتاط رہنے اور انتظامیہ سے تعاون کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

Related posts

دبئی جبل علی حادثے میں 25 زخمی، گاڑی درمیانی سڑک پر رکنے کے بعد، پولیس نے ڈرائیوروں کو خبردار کیا

شیخ ہمدان نے دبئی کے سیکھنے والوں کے لیے KHDA کے ‘سکلز فار لائف’ اقدام کے آغاز کی ہدایت کی

انور گرگاش: متحدہ عرب امارات کے عہدے دیانتدار اور مستقل ہیں۔