اسلحہ اور گولہ بارود سے لدے امریکی جہازوں کی اسرائیل آمد نے مشرق وسطیٰ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فوجی طیاروں نے مختلف اسرائیلی اڈوں پر لینڈنگ کی
اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیلی میڈیا میں ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جنہوں نے خطے میں ممکنہ نئے فوجی بحران کی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک روز کے دوران متعدد امریکی کارگو طیارے بڑی مقدار میں اسلحہ اور فوجی سامان لے کر اسرائیل پہنچے ہیں۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فوجی طیاروں نے مختلف اسرائیلی اڈوں پر لینڈنگ کی جہاں گولا بارود، میزائل سسٹمز اور دیگر عسکری سازوسامان اتارا گیا۔
ان اطلاعات کے بعد یہ سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آیا خطے میں کسی نئی فوجی کارروائی کی تیاری تو نہیں کی جا رہی۔
میڈیا رپورٹس میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید تناؤ کی کیفیت میں ہے اور امریکا مسلسل اسرائیل کی عسکری معاونت بڑھا رہا ہے۔ ایسے میں بڑے پیمانے پر فوجی سامان کی ترسیل نے سفارتی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
تاحال امریکی یا اسرائیلی حکومت کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی تاہم سیاسی و دفاعی تجزیہ کار اس صورتحال کو خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
دوسری طرف ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس پر کسی قسم کی عسکری کارروائی یا دباؤ بڑھانے کی کوشش کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں کسی بھی غلط اندازے یا محدود کارروائی کے وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت نے جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے مستقبل پر بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔