چینی پروفیسر جیانگ کی نئی پیش گوئیوں نے تہلکہ مچا دیا
یہ تنازع بڑی طاقتوں کے لیے ٹیکنالوجی کے عملی امتحان کا میدان بھی بن چکا ہے
بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر چینی تجزیہ کار پروفیسر جیانگ کی پیش گوئیاں موضوعِ بحث بن گئی ہیں، جنہوں نے موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں نہایت چونکا دینے والے دعوے کیے ہیں۔
پروفیسر جیانگ کے مطابق انہوں نے 2024 میں تین اہم پیش گوئیاں کی تھیں، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی، امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملہ اور اس جنگ میں مشکلات کا سامنا شامل تھا۔
اب ان کا کہنا ہے کہ یہ تنازع جلد ختم ہونے والا نہیں بلکہ ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس میں امریکا کو ویت نام جنگ جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کے بقول اگر حالات اسی سمت میں بڑھتے رہے تو امریکا بالآخر مشرق وسطیٰ سے اپنی موجودگی کم کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے، جبکہ خطے میں طاقت کا توازن نئے انداز میں ترتیب پا سکتا ہے، جہاں ایران اور اسرائیل مرکزی کردار بن کر ابھریں گے۔ اس تبدیلی کے اثرات عالمی معیشت، خاص طور پر پیٹرو ڈالر نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
پروفیسر جیانگ نے ایک اور زاویہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع بڑی طاقتوں کے لیے ٹیکنالوجی کے عملی امتحان کا میدان بھی بن چکا ہے۔
ان کے مطابق چین براہ راست جنگ میں شامل ہوئے بغیر صورتحال کا باریک بینی سے مشاہدہ کر رہا ہے اور مختلف دفاعی نظاموں کی کارکردگی کا تجزیہ کر رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جدید ہتھیاروں اور فضائی ٹیکنالوجی کی مؤثریت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، اور مستقبل میں بڑی طاقتوں کی عسکری حکمت عملی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایسی پیش گوئیاں حتمی نہیں ہوتیں، تاہم یہ عالمی سیاست میں جاری غیر یقینی صورتحال اور طاقت کے بدلتے توازن کی عکاسی ضرور کرتی ہیں، جس پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔
