صوفیہ: یورپی یونین کا غریب ترین ملک بلغاریہ اتار چڑھاؤ بھرے سفر کے بعد بالآخر یورو زون کا 21واں رکن بن گیا ہے۔
اس طرح بلغاریہ نے پولینڈ، جمہوریہ چیک اور ہنگری جیسے نسبتاً زیادہ خوشحال ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو اب تک یورو اختیار نہیں کر سکے ہیں۔
مغربی میڈیا کے مطابق شہری علاقوں میں رہنے والے، نوجوان اور کاروباری سوچ رکھنے والے بلغاریہ کے شہریوں کے لیے یورو کو اپنانا ایک پُرامید اور ممکنہ طور پر منافع بخش قدم سمجھا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ یورپی مرکزی دھارے میں شمولیت کا آخری مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں نیٹو اور یورپی یونین کی رکنیت، شینگن زون میں شمولیت اور اب یورو کا نفاذ شامل ہے۔
تاہم دیہی، عمر رسیدہ اور قدامت پسند طبقے کے لیے بلغاریہ کی قومی کرنسی “لیو” (جس کے معنی شیر ہیں) کا خاتمہ خوف اور ناراضی کا باعث بن رہا ہے۔
لیو 1881 سے بلغاریہ کی کرنسی رہی ہے، اگرچہ 1997 سے اسے پہلے جرمن ڈوئچ مارک اور بعد میں یورو کے ساتھ منسلک (peg) کر دیا گیا تھا۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 65 لاکھ آبادی تقریباً برابر حصوں میں یورو کے حق اور مخالفت میں منقسم ہے۔ جبکہ سیاسی عدم استحکام بھی اس تبدیلی کو مشکل بنا رہا ہے۔
وزیر اعظم روزن ژیلیازکوف کی اتحادی حکومت 11 دسمبر کو بجٹ کے خلاف عوامی احتجاج کے بعد اعتماد کا ووٹ ہار گئی۔
یاد رہے کہ بلغاریہ پچھلے چار برسوں میں سات انتخابات کر چکا ہے اور اگلے سال ایک اور انتخاب متوقع ہیں۔
جنوری کے مہینے میں لیو اور یورو دونوں میں ادائیگی ممکن ہوگی، تاہم واپس دی جانے والی رقم یورو میں ہوگی۔ یکم فروری کے بعد لیو میں ادائیگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
اگست 2025 سے تمام دکانوں پر دونوں کرنسیوں میں قیمتیں ظاہر کرنا قانونی طور پر لازم ہے۔
ایک یورو کی قیمت تقریباً دو لیو کے برابر ہے (درست شرح 1.95583 لیو)۔ عوام کے خدشات کے پیش نظر کہ قیمتیں بڑھا دی جائیں گی، صارفین کے تحفظ کے لیے نگرانی کے سخت نظام بنائے گئے ہیں۔
بعض شعبوں میں قیمتیں کم بھی ہوئی ہیں، مثلاً صوفیہ میں عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں معمولی کمی متوقع ہے۔
یورو سکے کے ڈیزائن میں بلغاریہ کی قومی شناخت کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک یورو سکے پر سینٹ ایوان آف ریلا، جبکہ دو یورو سکے پر 18ویں صدی کے راہب اور قومی احیاء کے علمبردار پائیسیئس آف ہیلنڈر کی تصویر ہے۔
چھوٹے سکے پر مدارا رائیڈر کی شبیہ ہے، جو بلغاریہ کی ابتدائی ریاست کی علامت ہے۔
ماہرین کے مطابق بلغاریہ کے سامنے دو راستے ہیں: ایک “بالٹک ماڈل” جیسا، جہاں یورو کے ساتھ اصلاحات، سرمایہ کاری اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات کیے گئے، اور دوسرا “اطالوی ماڈل”، جہاں یورو کے بعد طویل معاشی جمود رہا۔
