سڈنی واقعے پر خود بھارتی میڈیا نے الزامات کی قلعی کھول دی
رپورٹ کے مطابق حملہ آور ساجد اکرم کا تعلق بھارتی ریاست تلنگانہ سے ہے اور وہ 1996 میں بھارت سے آسٹریلیا منتقل ہوا۔
کراچی: سڈنی حملے کے بعد پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنانے والی بھارتی مہم خود بھارتی میڈیا کی رپورٹ سے زمین بوس ہوگئی۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈی بیچ پر حملے کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی پاکستان کو ملوث کرنے کی کوششیں بھارتی خبر رساں ادارے پرنٹ کی رپورٹ سے بے نقاب ہو گئیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور ساجد اکرم کا تعلق بھارتی ریاست تلنگانہ سے ہے اور وہ 1996 میں بھارت سے آسٹریلیا منتقل ہوا۔
مزید پڑھیں: سڈنی دہشتگردی واقعہ؛ بھارت کے ملوث ہونے کے مزید شواہد سامنے آگئے
ساجد اکرم کا بیٹا نوید اکرم پیدائشی آسٹریلوی شہری ہے، دونوں باپ بیٹا کا پاکستان سے کسی قسم کا تعلق ثابت نہیں ہوا۔
پرنٹ نے واضح کیا کہ آسٹریلوی حکام نے بھارت سے تفصیلات طلب کیں، حملہ آور کے پاکستانی ہونے کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں تھے۔
بھارتی اور اسرائیلی میڈیا نے نام ظاہر ہوتے ہی پاکستان پر الزامات لگانا شروع کر دیے، مگر حقائق کے مطابق یہ دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کچھ جعلی سوشل میڈیا پروفائلز کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن حقیقت سامنے آنے کے بعد یہ منظم مہم ناکام رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ بانڈی بیچ واقعہ نے ایک بار پھر بھارتی میڈیا کے فالس فلیگ بیانیے کو بے نقاب کر دیا اور پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش زمین بوس ہو گئی۔
مزید پڑھیں: سڈنی میں دہشتگردی کرنے والے ساجد اکرم کے بھارتی پاسپورٹ پر سفر کا انکشاف
قبل ازیں، برطانوی نشریاتی ادارے نے ملزم ساجد اکرم کے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کرنے کی اطلاع دی ہے۔
برطانوی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ساجد اکرم نے گزشتہ ماہ بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا، جبکہ اس کے بیٹے نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا، جس سے بھارتی پروپیگنڈا ایک بار پھر بھارت پر ہی الٹ گیا ہے۔
مزید برآں، آسٹریلیا کے وزیر داخلہ بھی یہ تصدیق کرچکے ہیں کہ ملزم ساجد اکرم 1998 میں بھارت سے اسٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا آیا تھا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق فلپائن امیگریشن نے تصدیق کی ہے کہ آسٹریلیا میں بونڈی بیچ حملے میں ملوث ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا جبکہ حملہ آورکا بیٹا 24 سالہ نوید اکرم آسٹریلوی شہری کی حیثیت سے فلپائن گیا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے، جہاں ان کی آخری منزل جنوبی صوبہ ڈاواؤ درج تھی، جس کے بعد دونوں 28 نومبر کو فلپائن سے روانہ ہوئے۔
