کراچی: محتسب اعلیٰ سندھ جسٹس (ر) شاہ نواز طارق نے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے الیکٹرک مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کر دیا ہے جبکہ ان پر 25 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق مونس علوی پر خاتون ملازم کو ہراساں کرنے کے الزامات ثابت ہو گئے، جس پر محتسب اعلیٰ سندھ نے نہ صرف فوری برطرفی کا حکم دیا بلکہ ایک ماہ کے اندر اندر جرمانے کی رقم ادا کرنے کی ہدایت بھی کی۔
جسٹس ریٹائرڈ شاہ نواز طارق نے قرار دیا کہ مونس علوی نے شکایت کنندہ کو ہراسانی اور ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا، جو قانون کے تحت ناقابلِ قبول ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ اگر 30 دن کے اندر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو علوی کی جائیداد ضبط کی جائے اور ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کیا جائے گا۔ تاہم، دیگر تین افسران کے خلاف الزامات شواہد کی کمی کے باعث مسترد کر دیے گئے۔
فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کام کی جگہ پر ہراسانی ایک ساختی صنفی امتیاز کی شکل رکھتی ہے اور طاقت کے عدم توازن سے جنم لیتی ہے۔
بعدازاں عدالت نے معروف ماہر قانون کیتھرین میک کنن کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے جنسی ہراسانی کو “ساختی صنفی جبر” قرار دیا۔
واضح رہے کہ مونس علوی کے خلاف سابق چیف مارکیٹنگ افسر مہرین زہرہ نے شکایت درج کروائی تھی۔ درخواست گزار کے مطابق شکایت کنندہ کو 2019ء میں کے الیکٹرک نے کنسلٹنسی کے لیے رکھا تھا۔
