وطنِ عزیز اور خصوصاً کراچی جیسے تجارتی مرکز میں بزنس گروپس، کلبز اور مختلف ایسوسی ایشنز کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ ان اداروں کے ذریعے کاروباری افراد، بالخصوص نئے اور چھوٹے کاروباریوں کو نیٹ ورکنگ اور تعلقاتِ عامہ (PR) کے مواقع فراہم کرنے کے نام پر ممبر بنایا جاتا ہے۔
ممبرشپ فیس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے فنڈز سے مختلف تقریبات اور سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں جن میں سیاستدانوں، سرکاری افسران اور کاروباری شخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایوارڈ شوز اور اعزازی تقریبات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہوتی ہیں۔
وقت کے ساتھ متعدد سینئر سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے ایسی تقریبات کی نوعیت کو بہتر انداز میں سمجھا ہے جس کے باعث وہ ان میں شرکت محدود کرچکے ہیں تاہم نئے افراد اب بھی ان سرگرمیوں کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔
دوسری جانب چیمبرز آف کامرس، فیڈریشنز اور مختلف سیکٹرز کی ایسوسی ایشنز معیشت سے متعلق پالیسی معاملات میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر شعبے کی نمائندہ تنظیم عموماً اپنے ممبران اور متعلقہ صنعت کے مفادات کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ ایک فطری امر ہے مگر اسی وجہ سے ان کی تجاویز میں وسیع تر قومی معاشی مفاد اور شعبہ جاتی مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور دیگر ریگولیٹری ادارے بجٹ، ٹیکس اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے انہی تنظیموں سے تجاویز طلب کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ مشاورت اہم ہے لیکن پالیسی سازی کو صرف انہی حلقوں تک محدود رکھنا شاید بہترین حکمتِ عملی نہ ہو۔
اس کے متبادل کے طور پر حکومت معروف جامعات اور غیر جانبدار تحقیقی اداروں کے تھنک ٹینکس سے بھی باقاعدہ مشاورت کا نظام قائم کرسکتی ہے۔ آئی بی اے کراچی، لمز، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE)، نسٹ بزنس اسکول اور دیگر ممتاز جامعات اس ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اسی طرح آئی سی ایم اے پاکستان (ICMAP) اور آئی سی اے پی (ICAP) جیسے پیشہ ورانہ اداروں کی تحقیق اور تکنیکی مہارت سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ان اداروں کی آراء عموماً تحقیق، ڈیٹا اور پیشہ ورانہ تجزیے پر مبنی ہوتی ہیں جب کہ ان کا براہِ راست تجارتی مفاد نسبتاً محدود ہوتا ہے۔
زراعت جو پاکستان کی معیشت کی بنیاد ہے، اس کے لیے بھی الگ مشاورتی نظام ہونا چاہیے۔ یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام اور دیگر زرعی تحقیقی اداروں کے ماہرین کی سفارشات زرعی پالیسی کو زیادہ حقیقت پسندانہ، سائنسی اور دیرپا بناسکتی ہیں۔
اگر ان تعلیمی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ اداروں کی سفارشات کو یکجا کرکے ایک مستقل قومی پالیسی بورڈ تشکیل دیا جائے تو یہی ادارہ سیاستدانوں اور حکومت کو ایک متوازن، تحقیق پر مبنی اور قومی مفاد سے ہم آہنگ چارٹر آف اکانومی کی تشکیل میں مؤثر معاونت فراہم کرسکتا ہے۔
اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ حکومت ایسی تمام تنظیموں اور ایسوسی ایشنز کے قانونی اور مالیاتی ڈھانچے کا باقاعدہ جائزہ لے جو کاروباری نمائندگی کے نام پر کام کررہی ہیں۔ جو ادارے متعلقہ قوانین، رجسٹریشن، مالی شفافیت یا گورننس کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اس سے نہ صرف چھوٹے کاروباری افراد کے مفادات کا تحفظ ہوگا بلکہ وہ حقیقی اور ذمہ دار تنظیمیں بھی مضبوط ہوں گی جو شفافیت اور پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق خدمات انجام دے رہی ہیں۔
پاکستان کو اس وقت محض ایک چارٹر آف اکانومی کی نہیں بلکہ ایسے چارٹر کی ضرورت ہے جو تحقیق، شفافیت، غیر جانبداری اور قومی مفاد پر مبنی ہو۔ اگر پالیسی سازی میں مفادات کے تصادم (Conflict of Interest) کو کم کردیا جائے تو معاشی فیصلے زیادہ متوازن، قابلِ عمل اور دیرپا ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہی وہ سمت ہے جو پاکستان کو مضبوط اور پائیدار معاشی مستقبل کی طرف لے جاسکتی ہے-