پی ایس ایل کے مالی معاملات پر اہم پیش رفت، 29 جولائی کی میٹنگ پر سب کی نظریں
واضح رہے کہ پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں پہلی بار آٹھ ٹیموں نے شرکت کی تھی
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے مستقبل اور مالی معاملات پر غور کے لیے 29 جولائی کو ایک اہم اجلاس متوقع ہے جس میں فرنچائز مالکان اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اعلیٰ حکام مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
بیرونِ ملک موجود متعدد فرنچائز مالکان کی وجہ سے اجلاس آن لائن منعقد کیے جانے کا امکان ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر 30 جولائی کو متبادل تاریخ کے طور پر رکھا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن کے مالی حسابات ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے جس کے باعث فرنچائزز اپنے سینٹرل پول شیئر کی ادائیگی کی منتظر ہیں۔ اجلاس میں اس معاملے کو خصوصی طور پر زیر بحث لایا جائے گا۔
معاہدے کے مطابق ایونٹ کے اختتام کے دو ماہ کے اندر فرنچائزز کو ان کے حصے کی نصف رقم ادا کی جانی تھی تاہم پی سی بی چونکہ کھلاڑیوں کے معاوضے، سفری اخراجات، رہائش اور دیگر انتظامات خود برداشت کرتا ہے اس لیے یہ اخراجات سینٹرل پول شیئر سے منہا کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مجموعی شیئر کا 10 فیصد حصہ بھی عارضی طور پر روکا جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ادائیگیوں میں تاخیر کی بنیادی وجہ ایک بڑے اسٹیک ہولڈر کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سیزن کے دوران بھی ایک اسٹیک ہولڈر کی جانب سے بقایا رقم بروقت ادا نہیں کی گئی تھی تاہم پی سی بی حکام کو امید ہے کہ یہ معاملات جلد حل کر لیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں پہلی بار آٹھ ٹیموں نے شرکت کی تھی۔ نئی شامل ہونے والی دو فرنچائزز کو پی سی بی نے اگلے پانچ سیزنز تک کم از کم 85 کروڑ روپے کی سینٹرل پول انکم گارنٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس پالیسی کے تحت اگر کسی بھی سیزن میں سینٹرل پول سے حاصل ہونے والا شیئر 85 کروڑ روپے سے کم رہتا ہے تو پی سی بی اس کمی کو پورا کرے گا۔ متبادل طور پر نئی فرنچائزز کو آئندہ ایڈیشن کی فیس میں رعایت دینے کا آپشن بھی موجود ہوگا تاہم ماضی کے تجربات کے مطابق سینٹرل پول شیئر عموماً مقررہ کم از کم رقم سے زیادہ ہی رہا ہے۔