میسی کا تجربہ یا یامال کا جادو؟ آج دنیا کو ملے گا فٹبال کا نیا حکمران
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم پہنچ گئے
فیفا ورلڈ کپ 2026 کا سب سے بڑا معرکہ آج نیویارک میں کھیلا جا رہا ہے، جہاں عالمی چیمپئن ارجنٹائن اور یورپی چیمپئن اسپین فٹبال کے عالمی تاج کے لیے آمنے سامنے ہیں۔ فائنل میچ سے قبل رنگا رنگ اختتامی تقریب کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم پہنچ گئے۔
ارجنٹائن کی ٹیم اپنی تاریخ کا چوتھا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے میدان میں اترے گی، جبکہ اسپین کی نظریں دوسرے عالمی ٹائٹل پر جمی ہیں۔ اس سے قبل ارجنٹائن 1978، 1986 اور 2022 میں عالمی چیمپئن بن چکا ہے، جبکہ اسپین نے 2010 میں پہلی اور اب تک واحد مرتبہ ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا۔
ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ پانچ ٹائٹل جیتنے کا اعزاز برازیل کے پاس ہے، جبکہ اٹلی اور جرمنی چار، چار مرتبہ عالمی چیمپئن رہ چکے ہیں۔ یوراگوئے اور فرانس نے دو، دو بار جبکہ انگلینڈ نے 1966 میں واحد عالمی ٹائٹل جیتا تھا۔
اس بار فیفا نے فاتح ٹیم کے لیے ایک نئی روایت متعارف کرائی ہے۔ پہلی مرتبہ چیمپئن ٹیم کو ٹرافی اور گولڈ میڈلز کے ساتھ خصوصی چیمپئن شپ رنگ بھی دی جائے گی، جو امریکی کھیلوں میں کامیابی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی، گولڈ میڈلز اور تقریباً 14 ارب پاکستانی روپے کی انعامی رقم ملے گی، جبکہ رنر اپ ٹیم کو چاندی کے تمغوں کے ساتھ 9 ارب روپے سے زائد کی رقم دی جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان میں بھی فٹبال کا جنون عروج پر ہے۔ کراچی کے مختلف مقامات پر فائنل میچ دکھانے کے لیے بڑی بڑی اسکرینیں نصب کر دی گئی ہیں، جبکہ لیاری انٹرنیشنل فٹبال گراؤنڈ میں شاندار اسکریننگ کا اہتمام کیا گیا ہے جہاں فٹبال شائقین کی بڑی تعداد مسلسل پہنچ رہی ہے۔
میچ سے قبل ارجنٹائن اور اسپین کے پرچموں سے مقامات سجا دیے گئے ہیں، جبکہ شائقین کی نظریں لیونل میسی اور ابھرتے ہوئے سپر اسٹار لامین یامال کے ممکنہ تاریخی مقابلے پر مرکوز ہیں۔ ایک طرف تجربہ، دوسری جانب نوجوان جوش، آج فیصلہ ہوگا کہ دنیا کا نیا فٹبال حکمران کون بنتا ہے۔
