جنگ پورے خطے کیلئے نقصان دہ، اس کو اب ختم ہونا چاہیے، ایرانی اور عراقی وزرائے خارجہ
‘خطے کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام ممالک کو کام کرنا ہوگا’
بغداد: ایرانی اور عراقی وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ جنگ کا تسلسل پورے خطے کو تباہی سے دوچار کر سکتا ہے، اس جنگ کو اب ختم ہونا چاہیے۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خطے کی موجودہ صورتحال، ایران عراق تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔
عراقی وزیرخارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف اب بھی جھڑپیں ہورہی ہیں، یہ جنگ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہے، اس جنگ کو اب ختم ہونا چاہیے۔
انکا کہنا ہے کہ خطے کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام ممالک کو کام کرنا ہوگا، ایرانی ہم منصب سے باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر گفتگو ہوئی اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
’جنگ کا تسلسل پورے خطے کی تباہی کا سبب بنے گا‘
فواد حسین نے کہا کہ ایران سے تعلقات کی بنیاد اسٹریٹجک تعاون ہے، ایران پر امریکی واسرائیلی جارحیت کی ہمیشہ مخالفت کی، مغربی ایشیا میں سیکیورٹی بڑھانے کے لیے ایران سے تعاون کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکا جنگ کے دوران عراق کو کئی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جنگ کا تسلسل پورے خطے کی تباہی کا سبب بنے گا، جنگ جاری رہنے سے خطے کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
’ایران کی حمایت کرنے پر عراقی حکومت کے شکرگزار ہیں‘
دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ عراقی وزیر خارجہ سے اہم امور پر گفتگو ہوئی، ایران کی حمایت کرنے پر عراقی حکومت کے شکرگزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران عراق تعاون کو اسٹریٹجک بنیاد پر بڑھانا چاہتے ہیں، امریکی حملے آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی میں رکاوٹ ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ عراق کی نئی حکومت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، عراقی حکومت نے ایران پر حملوں کی مذمت کی ہے، لبنان ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا اہم حصہ ہے۔
