امن معاہدے پر دستخط ہو چکے اور آبنائے ہرمز کو کھول دیا گیا ہے، صدر ٹرمپ
G7 اجلاس اس معاہدے کی وجہ سے خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی سیون اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے جہاں انہوں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقات کی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے پریس بریفنگ میں شرکت کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ امن معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں اہم عالمی تجارتی راستہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس راستے سے جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو چکی ہے اور توقع ہے کہ یہ جمعہ تک مکمل طور پر معمول پر آ جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور خطے میں اب ایک نئی، نسبتاً ذہین اور ذمہ دار قیادت سامنے آ رہی ہے جس نے امن کی طرف قدم بڑھایا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی شرکت کریں گے جبکہ دستخط کے بعد مکمل ڈیل کا مسودہ جاری کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے پر عملدرآمد سے پہلے ایران کو کسی قسم کی پابندیوں میں ریلیف نہیں دیا جائے گا۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس معاہدے کو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا بریک تھرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیاں بحال ہوں گی بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ کو بھی استحکام ملے گا۔
میکرون نے یہ بھی کہا کہ آئندہ G7 اجلاس اس معاہدے کی وجہ سے خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے جبکہ فرانس خطے میں امن اور سمندری سیکیورٹی کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
