پاکستانی نژاد فٹبالر نے عالمی فٹبال میں تاریخ رقم کر دی، فیفا ورلڈ کپ میں نیا سنگِ میل عبور کر لیا
وہ چیمپئنز لیگ میں شرکت کرنے والے پہلے برٹش ساؤتھ ایشین کھلاڑیوں میں شمار کیے گئے
عالمی فٹبال اسٹیج پر ایک نیا اور قابلِ ذکر ریکارڈ سامنے آیا ہے جہاں پاکستانی نژاد مڈفیلڈر زیڈان اقبال نے فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کرتے ہوئے اپنی پہچان کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔
زیڈان اقبال وہ پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے پاکستانی نژاد ہونے کے باوجود عراق کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے فٹبال کے سب سے بڑے عالمی ایونٹ میں حصہ لیا۔
23 سالہ زیڈان کے والد عامر اقبال کا تعلق پاکستان کے شہر ساہیوال سے ہے جبکہ ان کی والدہ عراقی نژاد ہیں۔ اس منفرد خاندانی پس منظر نے انہیں دو مختلف ثقافتوں سے جوڑا، تاہم کھیل کے میدان میں انہوں نے عراق کو اپنا انتخاب بنایا۔
زیڈان نے کم عمری میں ہی فٹبال کی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا اور صرف 9 برس کی عمر میں وہ انگلینڈ کے مشہور کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کی اکیڈمی سے وابستہ ہو گئے تھے۔ بعد ازاں وہ اس تاریخی لمحے کا بھی حصہ بنے جب وہ چیمپئنز لیگ میں شرکت کرنے والے پہلے برٹش ساؤتھ ایشین کھلاڑیوں میں شمار کیے گئے۔
ان کا بین الاقوامی کیریئر 2021 میں اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے عراق کی انڈر 23 ٹیم کی نمائندگی کی اور ایک سال بعد وہ قومی سینئر ٹیم کا مستقل حصہ بن گئے۔
زیڈان اقبال نے ماضی میں پاکستان اور انگلینڈ کی جانب سے کھیلنے کی اہلیت کے باوجود عراق کا انتخاب کیا۔ اس فیصلے میں جہاں ان کی ذاتی وابستگی شامل تھی وہیں پاکستان فٹبال فیڈریشن کے انتظامی مسائل بھی ایک بڑا عنصر قرار دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے بروقت رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔
اپنے ایک انٹرویو میں زیڈان نے کہا کہ وہ اگرچہ کبھی عراق نہیں گئے لیکن فٹبال کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ ضرور کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے پاکستانی پس منظر پر فخر ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی کہانی دنیا بھر کے نوجوان فٹبالرز کے لیے ایک مثال بنے۔
