امریکا اور ایران کے درمیان اہم پیش رفت متوقع، چند روز میں معاہدے کا امکان، ٹرمپ
اگلے دو سے تین دن اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی کوششیں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور آئندہ چند دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پانے کا امکان موجود ہے۔
میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور فریقین ایک ایسے سمجھوتے کے قریب ہیں جو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کی صلاحیت موجود ہے تاہم ایسی کسی کارروائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ہے اسی لیے ان کی ترجیح تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق معاشی دباؤ نے ایران کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات اور تجارتی پابندیوں کے اثرات نے تہران کی معیشت پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے جس کے باعث معاہدے کے امکانات پہلے سے زیادہ روشن دکھائی دے رہے ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر صورتحال فوجی تصادم کی جانب بڑھتی تو خطے کی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز متاثر ہو سکتی تھی جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور معاشی سرگرمیوں کو شدید دھچکا پہنچنے کا خطرہ موجود تھا۔
مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ خطے میں جاری سفارتی رابطے مثبت نتائج دیں گے۔ ان کے بقول امن کے لیے ہونے والی کوششیں اپنے اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور پیش رفت جلد سامنے آ سکتی ہے۔
جب ان سے ممکنہ معاہدے کے وقت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگلے دو سے تین دن اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی جنگ بندی کی کوششیں اور عالمی سفارتی سرگرمیاں بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
