عراق میں بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے دوران ایک بڑا کیس سامنے آیا ہے جہاں نائب وزیر تیل برائے ریفائننگ امور عدنان الجمیلی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان کے خلاف جاری تحقیقات میں اب تک 10 ملین ڈالر نقد، تقریباً 40 جائیدادیں، سونا اور دیگر قیمتی اثاثے ضبط کیے جا چکے ہیں۔
عراقی سنٹرل اینٹی کرپشن کرمنل کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار ملزم کے ساتھ مبینہ طور پر ان کے کئی ساتھی بھی حراست میں لیے گئے ہیں تاہم ان پر عائد الزامات کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں لائی گئیں۔ عدالت کے مطابق تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید گرفتاریوں کا امکان بھی موجود ہے۔
غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران بغداد، صلاح الدین اور اربیل کے مختلف علاقوں سے جائیدادیں برآمد کی گئیں۔ حکام کے مطابق صرف نقدی کی صورت میں تقریباً 10 ملین ڈالر، 3 ارب عراقی دینار (تقریباً 2 ملین ڈالر) اور ڈیڑھ کلوگرام سونا بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے، جس نے کیس کی نوعیت کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
تحقیقات سے جڑے ایک سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ عدنان الجمیلی کی گرفتاری ایک خصوصی فورس اور فیڈرل انٹیگریٹی کمیشن کی مشترکہ کارروائی کے دوران شمالی صوبے صلاح الدین میں عمل میں آئی۔ ان کے مطابق کئی سالوں سے ریفائنری معاہدوں میں اربوں ڈالر کی کرپشن اور کک بیکس کی شکایات زیرِ تفتیش تھیں۔
اسی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ملزم بااثر شخصیات سے جڑے ہوئے تھے اور ایک مضبوط سیاسی نیٹ ورک کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے تھے۔ ان کے مطابق کچھ سرکاری اہلکار بھی اس کیس میں گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ کئی افراد ابھی تک مفرور ہیں۔
عراق کے وزیر مواصلات مصطفیٰ سند نے عدنان الجمیلی کو وزارت تیل کا بڑا مگرہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے بیجی، دورہ، میسان اور شعائبہ کے ریفائنری منصوبوں سے بھاری رقوم منتقل کیں۔
ادھر ذرائع کے مطابق وزیراعظم علی الزیدی نے اس کیس کو اپنے دور حکومت کا سب سے اہم انسدادِ بدعنوانی آپریشن قرار دیا ہے۔ ایک ملاقات میں صحافیوں کو بتایا گیا کہ گرفتار افسر نے رہائی کے بدلے 200 ملین ڈالر رشوت کی پیشکش بھی ایک ثالث کے ذریعے کی تاہم حکومت نے اسے مسترد کر دیا۔
حکومت نے بدعنوانی کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سپریم سوورینٹی کونسل فار انٹیگریٹی اینڈ ریکوری آف پبلک فنڈز بھی قائم کر دی ہے جس کا مقصد بڑے مالی معاملات کی نگرانی اور انہیں عدالتی عمل تک پہنچانا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عراق میں بدعنوانی کے بڑے کیسز مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی انٹیگریٹی کمیشن نے بغداد کے دو سرکاری بینکوں سے 1.5 ٹریلین دینار کی ممکنہ خردبرد کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق عراق بدعنوانی کے اشاریے میں 181 ممالک میں 136ویں نمبر پر ہے جہاں تیل کے شعبے سے جڑے معاہدے اکثر بدعنوانی کے الزامات کی زد میں رہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے عراق میں بدعنوانی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے جس کے باعث ملک کی تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
سابق صدر برہام صالح کے مطابق 2021 تک عراق میں 150 ارب ڈالر سے زائد کی مبینہ کرپشن سامنے آ چکی ہے جس نے ریاستی نظام پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔