پاکستان میں موجودہ ٹیکس نظام سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا

پاکستان میں موجودہ ٹیکس نظام سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا

پاکستان بزنس کونسل اراکین پاکستان کی 40 فیصد برآمدات میں حصہ دار ہیں

پاکستان بزنس کونسل نے پاکستان میں موجودہ ٹیکس نظام سرمایہ کاری  کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا۔

پاکستان بزنس کونسل نے بجٹ 2026-27 میں بڑے ٹیکس ریفارمز کی تجویز دیتے ہوئےکاروباری لاگت کم اور ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کا فوری مطالبہ کردیا۔

پاکستان بزنس کونسل کے مطابق پاکستان میں ٹیکس شرحیں ایشیا میں بلند ترین ہے 40  فیصد معیشت غیر دستاویزی جبکہ کرنسی سرکولیشن 11 کھرب روپے سے تجاوز کر گئی ہے بھاری ٹیکسز کے باعث برین ڈرین اور سرمایہ بیرونِ ملک منتقل ہونے لگا ہے۔

پی بی سی نے مرحلہ وار اور کاروبار دوست ٹیکس اصلاحات کی سفارش کردی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان بزنس کونسل اراکین پاکستان کی 40 فیصد برآمدات میں حصہ دار ہیں۔

Related posts

محمد بن راشد: UAE نے 2025 میں AED 177.3 بلین FDI کی آمد ریکارڈ کی، عالمی سطح پر 9ویں نمبر پر ہے

ازبک فورسز کی بڑی کارروائی، افغانستان سے ڈرون کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام

GDMO نے نئی بین الاقوامی میڈیا بریفنگ سیریز کا آغاز کیا جو عالمی میڈیا کو دبئی کے اہم شعبوں کو تشکیل دینے والے رہنماؤں سے جوڑتا ہے۔