غزہ امدادی فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ اسرائیل فوجیوں کی بدسلوکی، ویڈیو سامنے آ گئی
گرفتار کیے گئے کم از کم 87 کارکنوں نے مبینہ ناروا سلوک کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے
غزہ کی جانب جانے والے امدادی مشن “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے گرفتار کارکنوں کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد اسرائیل کو شدید بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔
اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز نے سوشل میڈیا اور عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متعدد کارکنوں کو ہتھکڑیاں لگا کر زمین پر بٹھایا گیا ہے جبکہ بن گویر انہیں طنزیہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ اسرائیل ہے اور یہاں اختیار ہمارا ہے۔
ایک اور منظر میں ایک خاتون کارکن کو فری فلسطین کا نعرہ لگانے پر اہلکاروں کی جانب سے سختی کا سامنا کرتے دکھایا گیا جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے شدید اعتراض اٹھایا ہے۔
اسرائیلی وزیر بنیامین نیتن یاہو سے مطالبہ کرتے ہوئے بن گویر نے گرفتار کارکنوں کو دہشت گردی کے حامی قرار دیا اور کہا کہ انہیں طویل مدت تک حراست میں رکھا جانا چاہیے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار کیے گئے کم از کم 87 کارکنوں نے مبینہ ناروا سلوک کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب اٹلی نے اسرائیلی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اپنے شہریوں سمیت تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ کارکنوں کے ساتھ کیا گیا برتاؤ انسانی وقار اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے اور اسرائیل کو اس معاملے پر معذرت کرنی چاہیے۔
اطالوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کر کے واقعے پر باضابطہ وضاحت طلب کی جائے گی۔
ادھر اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فلوٹیلا میں شامل 430 رضاکاروں کو اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے اور انہیں اپنے اپنے ممالک کے قونصلر حکام سے ملاقات کی سہولت دی جائے گی۔
