ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر طے شدہ حملہ مؤخر کرنے کا اعلان
خلیجی اتحادی رہنماؤں کے احترام میں کل ہونے والا حملہ روک دیا ہے، امریکی صدر
واشنگٹن: قطر، سعودی عرب اور یو اے ای کی درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ عین وقت پر مؤخر کردیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ تمیم بن حمد الثانی، محمد بن سلمان اور محمد بن زید النہیان کی درخواست پر امریکا نے ایران پر ہونے والا مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کردیا ہے۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکی فوجی کارروائی کل کے لئے طے تھی تاہم خلیجی رہنماؤں نے انہیں یقین دلایا کہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ان کے خیال میں ایسا معاہدہ ممکن ہے جو نہ صرف امریکا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لئے قابلِ قبول ہوگا۔
ٹرمپ کے مطابق ممکنہ معاہدے کی سب سے اہم شرط یہ ہوگی کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ خلیجی اتحادی رہنماؤں کے احترام میں انہوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈینیئل کین اور امریکی فوج کو ہدایت جاری کی ہے کہ کل ہونے والا حملہ روک دیا جائے۔
تاہم ٹرمپ نے خبردار بھی کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور کوئی ’’قابلِ قبول معاہدہ‘‘ نہ ہوسکا تو امریکا کسی بھی لمحے ایران کے خلاف ’’بڑے پیمانے کی مکمل فوجی کارروائی‘‘ کے لئے تیار رہے گا۔