ٹرمپ اور شی جن پنگ ملاقات، محاذ آرائی کے بجائے تعاون کا راستہ اپنانے پر اتفاق

ٹرمپ اور شی جن پنگ ملاقات، محاذ آرائی کے بجائے تعاون کا راستہ اپنانے پر اتفاق

بطور عالمی طاقت امریکا اور چین پر دنیا کے آٹھ ارب لوگوں کے لیے مشترکہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، چینی صدر

بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی احترام، اقتصادی تعاون اور اسٹریٹجک روابط کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

 مشترکہ پریس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے کہا کہ امریکا اور چین کے تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے امن، استحکام اور ترقی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، اسی لیے اختلافات کے بجائے شراکت داری اور تعاون کو ترجیح دی جائے گی۔

بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جنگ پنگ کے درمیان اعلیٰ سطح ملاقات ہوئی جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ملاقات کے بعد مشترکہ میڈیا گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے مؤقف کو مثبت انداز میں سراہتے ہوئے مستقبل میں تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بطور عالمی طاقت امریکا اور چین پر دنیا کے آٹھ ارب لوگوں کے لیے مشترکہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی کامیابی میں رکاوٹ بننے کے بجائے تعاون اور شراکت داری کو فروغ دینا چاہیے۔

شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا دورۂ چین تاریخی نوعیت کا حامل ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو نئی سمت ملے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ چین کی ترقی اور “امریکا گریٹ اگین” کا وژن ایک ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی قیادت اور عوام کی جانب سے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بیجنگ میں ایسا شاندار خیر مقدم ماضی میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی صدر کے ساتھ انتہائی مثبت، تعمیری اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے جس کے دونوں ممالک کے لیے بہترین نتائج سامنے آئیں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایک دوسرے کا احترام ہی ترقی کی پہلی منزل ہے جبکہ امریکا اور چین کے تعلقات دنیا پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے، تجارت کے فروغ اور خطے میں استحکام کے لیے مسلسل رابطے اور تعاون ناگزیر ہیں۔ ملاقات کو عالمی سفارتی حلقوں میں امریکا اور چین کے تعلقات میں نئی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Related posts

فجیرہ پٹرولیم انڈسٹریز کے علاقے میں پائپ لائن کی بحالی سے منسلک دھواں

ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ، ٹکٹوں کی فروخت نے نیا تاریخ ساز ریکارڈ قائم کر دیا

دبئی کا برج خلیفہ دنیا کی سب سے زیادہ انسٹاگرامبل جگہ قرار پایا