ایران کا افزودہ یورینیم کہاں ہے؟ ٹرمپ نے بتا دیا

ایران کا افزودہ یورینیم کہاں ہے؟ ٹرمپ نے بتا دیا

امریکا مزید دو ہفتوں تک بھی ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام، ممکنہ فوجی کارروائی اور سابق امریکی حکومتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے ایک بار پھر سخت اور دھماکہ خیز بیانات دیے ہیں۔

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کا افزودہ یورینیم اب ملبے کے نیچے دبا ہوا ہے، تاہم امریکا اس تک ہر صورت رسائی حاصل کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ایرانی اس افزودہ یورینیم کے قریب جانے کی کوشش کرے گا تو امریکا کو فوری اطلاع مل جائے گی اور ایسے شخص کو “تباہ کر دیا جائے گا”۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف امریکی جنگی کارروائیاں ختم نہیں ہوئیں اور ایران میں اب بھی کئی اہم اہداف موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑی تو امریکا مزید دو ہفتوں تک حملے جاری رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ واشنگٹن ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت کی “اے، بی اور سی ٹیم” ختم ہو چکی ہے اور اب امریکا ایسے عناصر کا سامنا کر رہا ہے جو “خاص طاقت” رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا عسکری میدان میں ایران کو شکست دے چکا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں سابق امریکی صدور باراک اوباما اور جو بائیڈن کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اوباما نے ایران کو “نئی زندگی” دی اور 1.7 ارب ڈالر نقد فراہم کیے، جو جہازوں کے ذریعے سوٹ کیسز اور تھیلوں میں ایران پہنچائے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام نے اتنی بڑی رقم پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی اور وہ حیران رہ گئے تھے۔ ٹرمپ نے اوباما کو “امریکا کیلئے تباہی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بائیڈن کی پالیسیاں اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے امریکا اور دنیا کے ساتھ “کھیل کھیل رہا تھا”، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران امریکی شہریوں کو سڑک کنارے نصب بموں کے ذریعے نشانہ بناتا رہا اور حالیہ ایرانی مظاہروں میں ہزاروں بے گناہ افراد مارے گئے۔

Related posts

متحدہ عرب امارات نے کویت کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی مذمت کی ہے۔

دبئی کے گلوبل ولیج نے سیزن کو 31 مئی تک بڑھا دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے قطری سمندری حدود میں تجارتی جہاز پر ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔