کروز شپ پر ہنٹا وائرس، تمام مسافروں کی 42 روز تک نگرانی کا حکم
عالمی ادارۂ صحت نے مختلف ممالک کے حکام سے رابطے شروع کر دیے ہیں تاکہ مسافروں کو محفوظ انداز میں ان کے ممالک منتقل کیا جا سکے
عالمی ادارۂ صحت نے ہنٹا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر کروز شپ “ایم وی ہونڈیئس” پر موجود تمام افراد کو انتہائی خطرے کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے مسلسل طبی نگرانی کی ہدایت جاری کردی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً ڈیڑھ سو افراد کو لے جانے والا یہ بحری جہاز اس وقت اسپین کے جزائر کینری کے قریب سمندر میں موجود ہے، جہاں ہنٹا وائرس سے جڑی اموات کے بعد عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ اب تک تین افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ متعدد افراد میں وائرس کی علامات یا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی وبائی ماہر ڈاکٹر ماریا وان کرخوف نے آن لائن بریفنگ میں بتایا کہ جہاز پر سوار ہر فرد کو ممکنہ متاثرہ تصور کیا جا رہا ہے، اسی لیے تمام مسافروں اور عملے کی 42 دن تک کڑی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال جہاز پر کسی نئے مریض میں واضح علامات سامنے نہیں آئیں، تاہم احتیاطی اقدامات جاری رکھے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جاں بحق افراد میں نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا اور جرمنی کی ایک خاتون شامل ہیں۔ طبی ماہرین نے متاثرہ مریضوں میں “اینڈیز وائرس” کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، جو ہنٹا وائرس کی ایسی قسم سمجھی جاتی ہے جو محدود حد تک انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے مختلف ممالک کے حکام سے رابطے شروع کر دیے ہیں تاکہ مسافروں کو محفوظ انداز میں ان کے ممالک منتقل کیا جا سکے۔ اگر کسی شخص میں شدید علامات ظاہر ہوئیں تو اسے خصوصی طبی پرواز کے ذریعے نیدرلینڈز منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریاسس نے ٹینیرائف کے شہریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ موجودہ صورتحال کو کورونا جیسا عالمی خطرہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور مقامی آبادی کے لیے فوری خطرہ کم ہے۔ اس کے باوجود احتیاط کے طور پر جہاز کو بندرگاہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی اور اسے سمندر میں ہی رکھا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس عموماً چوہوں اور دیگر جنگلی جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، تاہم اینڈیز وائرس کی قسم انسانوں کے درمیان منتقلی کی محدود صلاحیت رکھتی ہے، جس کے باعث عالمی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔