کیلا دنیا بھر میں سب سے زیادہ کھایا جانے والا پھل ہے جبکہ بچوں کی پہلی ٹھوس غذا میں یہی پھل شامل ہے۔
چاہے ناشتہ ہو، دوپہر کا کھانا، ہلکی پھلکی بھوک مٹانے کے لیے اسنیکس ہوں یا کچھ میٹھا، کیلا ہر موقع پر پسند کیا جاتا ہے۔ یہ وٹامن بی 6، وٹامن سی، میگنیشیم اور فائبر کا بہترین ذریعہ ہے۔
کیلے میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کوکنٹرول کرنے اور دل کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اس کے علاوہ کیلے میں ایک خاص مرکب ’’ٹرپٹوفین‘ بھی پایا جاتا ہے جو موڈ بہتر بنانے اور پرسکون نیند کا ضامن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روزانہ ایک کیلا کھانا جسم میں کیا حیرت انگیز تبدیلیاں لاتا ہے
تاہم کیا بازار میں ملنے والا ہر چمکدار پیلا کیلا واقعی فائدہ مند ہے؟ بدقسمتی سے ایسا ہرگزنہیں ہے مصنوعی طریقے سے پھل پکانے کے اس عمل کے دوران یہ صحت بخش پھل بھی کیمیکل کے استعمال سے محفوظ نہیں رہا۔
آئیے جانتے ہیں کہ قدرتی طور پر پکے ہوئے اور کیمیکل سے پکائے گئے کیلے میں کیا فرق ہے اور انہیں کیسے پہچانا جاسکتا ہے۔
اگر بازار میں آپ کو ایسا کیلا دکھائی دے جو درمیان سے پیلا ہو لیکن اوپر اور نیچے دونوں سِروں سے سبز ہو تو اسے خریدنے سے گریز کریں یہ اس بات کی واضح نشانی ہے کہ اسے مصنوعی طور پر کیمیکل کے ذریعے پکایا گیا ہے۔

کیلو کو راتوں رات پیلا کرنے کے لیے بعض دکاندار کیلشیم کاربائیڈ کے محلول کا استعمال کرتے ہیں اس کیمیکل کے اثر سے کیلا درمیان سے پیلا ہو جاتا ہے جبکہ اس کے کنارے سبز رہتے ہیں۔
قدرتی طور پر پکے ہوئے کیلے کی نشانیاں
قدرتی طور پر پکے ہوئے کیلے کو پہچاننا بہت آسان ہے اگر کیلے کے اوپر والا حصہ یعنی ڈنڈی سیاہ پڑ چکی ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ کیلا بغیر کسی مصنوعی طریقے کے قدرتی انداز میں پکا ہے۔

یہ کیمیکل صحت کے لیے کیوں خطرناک ہیں؟
کیلشیم کاربائیڈ انسانی جسم کے لیے نہایت نقصان دہ ہے اگر یہ جسم میں داخل ہو جائے تو جلن، سوزش، پیٹ درد اور دست جیسی بیماریوں کو جنم دے سکتا ہے۔
بعض افراد ایسے کیلے کھانے کے بعد سر درد، چکر یا بے چینی محسوس کر سکتے ہیں اس کے علاوہ مصنوعی طریقے سے پھل پکانے کے دوران خارج ہونے والی گیسیں گلے میں خراش اور سانس کی ہلکی تکلیف کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔
کیلشیم کاربائیڈ میں آرسینک اور فاسفورس جیسے زہریلے اجزا پائے جاتے ہیں جو انسانوں میں کمزوری اور چکر آنے جیسی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
