فائنل میں پریشر الگ ہوتا ہے، ٹرافی اٹھانا ہر کپتان کا خواب ہے؛ بابر اعظم

لاہور میں پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے سیزن بھر اچھی کرکٹ کھیلی اور فائنل جیتنے کے لیے بھی بہترین کھیل پیش کرنا ہوگا۔

بابر اعظم نے کہا کہ فائنل کا پریشر مختلف ہوتا ہے اور شائقین سے بھرے اسٹیڈیم میں کارکردگی دکھانا چیلنج ہوگا۔ ہر میچ پریشر سے بھرپور ہوتا ہے تاہم فائنل کی اہمیت اور دباؤ الگ نوعیت کا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر ٹیم کا اپنا مائنڈ سیٹ ہوتا ہے اور پشاور زلمی نے پورے ٹورنامنٹ میں مختلف ٹیموں کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں۔ ٹیم کا مومینٹم اچھا رہا ہے تاہم لاہور اور کراچی کی کنڈیشنز مختلف ہوتی ہیں اور بعض اوقات پلان کے مطابق چیزیں نہیں ہوپاتیں۔

کپتان پشاور زلمی نے غیر ملکی کھلاڑیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مائیکل بریس ویل اور کوشل مینڈس جیسے کھلاڑی ٹیم کے لیے اہم ثابت ہوئے جب کہ مقامی پلیئرز نے بھی شاندار کارکردگی دکھائی۔

بابر اعظم نے کہا کہ ہر کپتان کا خواب ہوتا ہے کہ وہ ٹرافی اٹھائے اور وہ بھی یہی خواہش رکھتے ہیں تاہم اس کے لیے ٹیم کو سادہ اور معیاری کرکٹ کھیلنا ہوگی۔

انہوں نے تنقید کے حوالے سے کہا کہ اس پر زیادہ کچھ نہیں کیا جاسکتا جب کہ اچھا اسکور کرنے سے کھلاڑی کا اعتماد بڑھتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسٹیڈیم کے بھرجانے کی اطلاعات ہیں جو کھلاڑیوں کے لیے مزید جوش کا باعث بنیں گی۔

نوجوان کھلاڑیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ علی رضا اور فرحان یوسف مستقبل کے اسٹارز ہیں جب کہ تمام ٹیموں کے ایمرجنگ پلیئرز نے بھی عمدہ کھیل پیش کیا ہے۔

بابر اعظم کہتے ہیں کہ ٹیم نے حکمت عملی کو سادہ رکھا ہے تاہم بعض مواقع پر مختلف نمبرز پر مختلف انداز میں کھیلنا پڑتا ہے۔ ہر کوچ کا اپنا مائنڈ سیٹ ہوتا ہے اور کوچز کھلاڑیوں کو اپنی بہترین کارکردگی دینے کا کہتے ہیں۔

انہوں نے سابق کپتان مصباح الحق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے تجربے کی روشنی میں بیٹنگ لائن کی رہنمائی کرتے ہیں۔

قومی ٹیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، صرف اسے پہچاننے کی ضرورت ہے جب کہ قومی ٹیم کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔

وننگ ٹوٹل سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ نجومی نہیں ہیں، اصل صورتحال میچ کے دن سامنے آئے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں جو بھی کردار دیا جاتا ہے وہ اسے بہترین انداز میں نبھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اب تک زیادہ تر پرفارمنس اوپننگ میں ہی دی ہے۔

قومی ٹیم کی کپتانی سے متعلق سوال پر بابر اعظم نے محتاط جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسی کوئی پیشکش ہوئی تو اس پر بعد میں غور کیا جائے گا۔

Related posts

دبئی پولیس کی تلاش اور بچاؤ ٹیموں نے Q1 2026 میں 1,800 سے زیادہ مشن مکمل کیے

دبئی نے بلیو لائن میٹرو کی نقاب کشائی کی: مستقبل کی طرف AED 20 بلین چھلانگ

متحدہ عرب امارات میں غیر قانونی طور پر سڑک پار کرنا؟ آپ کو ڈی ایچ 10,000 جرمانہ یا جیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔