ماسکو میں پیوٹن اور عباس عراقچی کی بڑی سفارتی بیٹھک، خطے کے مستقبل پر اہم گفتگو
ملاقات میں روسی وزیر خارجہ، فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے
روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات کی جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران صدر پیوٹن نے کہا کہ ایرانی عوام اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہمت اور بہادری سے ڈٹے ہوئے ہیں، اور انہیں امید ہے کہ ایران اس مشکل دور پر قابو پا کر خطے میں امن قائم کرے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ روس مشرق وسطیٰ میں فوری امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے انہیں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام موصول ہوا جبکہ انہوں نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
اس موقع پر عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور روس کے تعلقات گہری اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں، اور ایرانی عوام نے دشمن کی جارحیت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو کر اپنی مضبوطی کا ثبوت دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی درخواست پر غور کیا جا رہا ہے تاہم ان کے مطابق امریکا اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا، جس کے باعث مذاکرات کی بات کی گئی۔
ملاقات میں روسی وزیر خارجہ، فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، جبکہ ایرانی وفد میں نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اور روس میں تعینات ایرانی سفیر کاظم جلالی بھی شامل تھے۔