وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بہترین رہنما ہیں، صدر ٹرمپ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور امید ہے کہ صورتحال جلد بہتری کی طرف جائے گی، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں پاکستان کی قیادت، ایران کی صورتحال اور وائٹ ہاؤس سیکیورٹی سے متعلق متعدد اہم بیانات دیے ہیں۔
ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں بہترین اور قابل احترام رہنما ہیں اور امریکہ کے لیے ان کی خدمات اور کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ایران کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ ایران کی جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی اور ہم اس میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اگر بات کرنا چاہتا ہے تو براہ راست رابطہ کر سکتا ہے اور مستقبل میں مزید مشاورت فون کے ذریعے کی جائے گی۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے کچھ مذاکرات کار سمجھدار ہیں جبکہ کچھ نہیں تاہم انہیں امید ہے کہ ایران مجموعی طور پر دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے پر نیٹو امریکہ کے ساتھ مکمل طور پر شریک نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی نیوکلیئر ڈسک کو مذاکرات کا حصہ بنایا جائے گا اور اس معاملے پر چین اور دیگر ممالک بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق برطانیہ نے جنگ کے اختتام کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیجنے کی بات کی ہے جو مناسب اقدام نہیں۔
گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ سب جانتے ہیں ٹیلیفون موجود ہے اور ہماری لائنیں محفوظ ہیں ایران چاہے تو رابطہ کر سکتا ہے یا ملاقات کے لیے آ سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس واقعے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے حملہ آور کو ذہنی طور پر بیمار شخص قرار دیا اور کہا کہ اس کے خاندان کو اس کے مسائل کا علم تھا تاہم اسے فوری طور پر روک دیا گیا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر بال روم منصوبے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ جدید اور محفوظ انفراسٹرکچر ناگزیر ہے۔
انہوں نے اختتام پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور امید ہے کہ صورتحال جلد بہتری کی طرف جائے گی۔