ایران مذاکرات کرے ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرے، ٹرمپ کا سخت تنبیہ
ایران نے بات چیت کا راستہ اختیار نہ کیا تو اسے ایسے مسائل درپیش ہوں گے جن کا اس نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا ہوگا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بالآخر ایران مذاکرات کی میز پر آئے گا، بصورت دیگر اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک ریڈیو پروگرام ”دی جان فریڈرکس شو“ کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران نے بات چیت کا راستہ اختیار نہ کیا تو اسے ایسے مسائل درپیش ہوں گے جن کا اس نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا ہوگا۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران ایک معقول معاہدہ کرے گا اور اپنی توجہ ملک کی تعمیرِ نو پر مرکوز کرے گا تاہم واضح کیا کہ اسے کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس نہ جوہری ہتھیار ہوں گے، نہ ان تک رسائی ہوگی اور نہ ہی ایسا کرنے کا کوئی امکان رہنے دیا جائے گا کیونکہ یہ عالمی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس ایران کے معاملے میں سخت مؤقف اختیار کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا اور یہ اقدام ناگزیر تھا۔
کسی بھی قسم کی دھمکی کے تحت مذاکرات قبول نہیں کریں گے، ایران
اس سے قبل ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھمکی کے تحت مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا مذاکرات کو “سرنڈر” میں بدلنا چاہتا ہے، جسے ایران مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا کی جانب سے ناکہ بندی معاہدے کی روح کے خلاف ہے اور ایران اس صورتحال میں اپنے دفاع کے لیے نئے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
