برطانوی یونیورسٹیوں نے فلسطین کے حامی طلبہ کی ’’جاسوسی‘‘ شروع کردی
الجزیرہ اور لبرٹی انویسٹیگیٹس کی مشترکہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے۔
لندن: برطانوی یونیورسٹیوں نے فلسطین کے حامی طلبہ کی ’’جاسوسی‘‘ کے لیے نجی سیکیورٹی فرم سے معاہدہ کرلیا۔
ایک مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بارہ برطانوی یونیورسٹیوں نے فلسطین حامی طلبہ اور اساتذہ کی نگرانی کے لیے ایک نجی جاسوسی فرم سے معاہدہ کیا اور انہیں لاکھوں پاؤنڈ ادا کیے ہیں۔
الجزیرہ اور لبرٹی انویسٹیگیٹس کی مشترکہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے جب کہ ہورس سیکیورٹی کنسلٹنسی نامی یہ فرم سابق فوجی انٹیلی جنس افسران چلاتے ہیں۔
تحقیقات میں شامل یونیورسٹیوں میں آکسفورڈ، امپیریل کالج، یونیورسٹی کالج لندن، کنگز کالج لندن، شیفیلڈ، لیسٹر، ناٹنگھم اور کارڈف میٹروپولیٹن شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق اس فرم نے طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی چھان بین کی اور خفیہ انسداد دہشت گردی رپورٹس تیار کی ہیں۔
متاثرہ افراد میں ایک فلسطینی ماہر تعلیم بھی شامل تھے جنہیں مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا جب کہ لندن اسکول آف اکنامکس کے ایک پی ایچ ڈی طالب علم کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یونیورسٹیوں کا اپنے دفاع میں کہنا ہے کہ وہ عوامی معلومات کی بنیاد پر ممکنہ خطرات کی نشاندہی کررہی ہیں لیکن تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ طلبہ کی بنیادی آزادیوں کی خلاف ورزی ہے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے اسے سنگین قانونی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے طلبہ کے ڈیٹا کی چھان بین سنگین قانونی خدشات پیدا کرتی ہے۔
