امریکا کا ایرانی تجارتی جہاز پر قبضہ؛ ایران نے سخت جواب دینے کا اعلان کردیا
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری ویڈیو میں ایک بحری جہاز کو ایرانی کارگو شپ کو روکے ہوئے دکھایا گیا ہے
خلیجِ عمان میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے جہاں امریکا نے ایرانی تجارتی جہاز کو تحویل میں لے لیا جب کہ ایران نے اس اقدام کو ”بحری قزاقی“ قرار دیتے ہوئے سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی بحریہ نے ناکہ بندی کے دوران ایران کے پرچم بردار کارگو جہاز کو روکنے کی کوشش کی تاہم ”توسکا“ نامی جہاز نے وارننگ پر عمل نہ کیا جس کے بعد اسے قبضے میں لے لیا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری ویڈیو میں ایک بحری جہاز کو ایرانی کارگو شپ کو روکے ہوئے دکھایا گیا ہے جہاں مبینہ طور پر پیغامات دینے کے بعد فائرنگ بھی کی گئی۔
U.S. Marines depart amphibious assault ship USS Tripoli (LHA 7) by helicopter and transit over the Arabian Sea to board and seize M/V Touska. The Marines rappelled onto the Iranian-flagged vessel, April 19, after guided-missile destroyer USS Spruance (DDG 111) disabled Touska’s… pic.twitter.com/mFxI5RzYCS
— U.S. Central Command (@CENTCOM) April 20, 2026
دوسری جانب ایران نے اس کارروائی کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی فوج کے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے مطابق امریکی اقدام نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اسے مسلح بحری ڈکیتی کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ امریکی فورسز نے نہ صرف جہاز پر فائرنگ کی بلکہ اس کے نیویگیشن سسٹم کو بھی ناکارہ بنایا اور مسلح اہلکاروں کو جہاز پر اتارنے کی کوشش کی۔
ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا کہ مذکورہ جہاز امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل تھا اور اس کا ماضی غیر قانونی سرگرمیوں سے جڑا رہا ہے اسی لیے کارروائی کی گئی، امریکی میرینز اس وقت جہاز پر موجود سامان کی تفتیش کر رہے ہیں۔
واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ ایران کی جانب سے ممکنہ جواب پر عالمی نظریں مرکوز ہیں۔
