جب چین جاؤں گا تو صدر شی جن پنگ مجھے گلے سے لگائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
چین نے ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، امریکی صدر
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب چین جاؤں گا تو صدر شی جن پنگ مجھے گلے سے لگائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے کا اقدام کیا جارہا ہے جس سے نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کو فائدہ پہنچے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا فیصلہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام چین سمیت تمام ممالک کے مفاد میں کیا جارہا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ شی جن پنگ کی قیادت میں چین کے ساتھ تعلقات بہتر ہورہے ہیں۔ چین نے ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد چین کا دورہ کریں گے جہاں صدر شی جن پنگ ان کا پرتپاک استقبال کریں گے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ چینی صدر انہیں گلے لگا کر خوش آمدید کہیں گے جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کی علامت ہوگا۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہوگی اور امریکا و چین مل کر دانشمندی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا جنگی میدان میں اپنی برتری ثابت کرے گا۔
ٹرمپ نے سوال اٹھایا کہ چین کے ساتھ بہتر تعلقات کو کیا کسی لڑائی میں شکست سمجھا جاسکتا ہے؟ ان کے مطابق یہ دراصل سفارتی کامیابی ہے جس سے عالمی استحکام کو فروغ ملے گا۔
