’’جو چیز موجود ہی نہیں اسے کیا ختم کریں“، ایران کا جوہری ہتھیاروں پر اہم بیان
ایران لبنان کی مزاحمتی قوتوں کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا، اسماعیل بقائی
تہران: ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنارہا، خطے میں مداخلت قبول نہیں کرے گا اور پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران خطے میں کسی بھی خارجی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کا پاسبان اور نگہبان ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی یقینی بنائے گا۔
لبنان کی مزاحمت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران لبنان کی مزاحمتی قوتوں کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
جوہری پروگرام پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) بھی اس بات کی تصدیق کرچکی ہے کہ ایران ایٹم بم نہیں بنارہا۔
انہوں نے مزید کہا ’’جو چیز موجود ہی نہیں، اسے کیا ختم کیا جائے“۔ ترجمان نے زور دیا کہ ایران جوہری صلاحیت کو صرف توانائی اور امن کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے اور یہ اس کا حق ہے۔
امریکہ سے متعلق اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہورہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ سلسلہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سے جاری ہے۔ اب جو بھی مذاکرات ہوں گے وہ مکمل جنگ بندی کے حصول کے لیے ہوں گے۔
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ جس چیز کا وجود ہی نہیں اس بنیاد پر ہمیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔