امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے محض چند ہی دنوں میں پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اس تنازع نے نہ صرف بڑے پیمانے پر جانی نقصان کیا بلکہ خطے کی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اب تک ہلاکتوں کی تعداد 3,881 تک پہنچ چکی ہے جب کہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے کم از کم 1,900 اموات کی تصدیق کی ہے۔
لبنان میں 2 مارچ سے جاری اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے جہاں 1,530 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 129 بچے بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے 3 امن اہلکار بھی مختلف حملوں میں مارے گئے، دیگر متاثرہ ممالک میں عراق میں 117 افراد ہلاک ہوئے جب کہ اسرائیل میں ایران اور لبنان سے داغے گئے میزائل حملوں کے نتیجے میں 23 افراد مارے گئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں اس کے 11 اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
📌 At least 3,881 people have been killed across 15 countries due to US-Israeli attacks and Iran’s retaliatory since February 28
🔴 Majority of casualties have occurred in Iran and Lebanon, with 2,066 and 1,530 deaths respectively pic.twitter.com/ov6RbR2JNn
— Anadolu English (@anadoluagency) April 8, 2026
امریکی فوج کو بھی نمایاں نقصان اٹھانا پڑا ہے جہاں 13 اہلکار ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ خلیجی ممالک بھی اس تنازع سے محفوظ نہ رہ سکے، متحدہ عرب امارات میں 13، قطر میں ہیلی کاپٹر حادثے میں 7 اور کویت میں بھی 7 افراد جان سے گئے۔
اس کے علاوہ مغربی کنارے میں 4 فلسطینی خواتین، شام کے شہر سویدا میں 4 افراد ہلاک ہوئے جب کہ بحرین، عمان اور سعودی عرب میں بھی مختلف حملوں کے باعث جانی نقصان ہوا۔
یہ جنگ صرف انسانی جانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی نہایت گہرے ہیں۔
سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکی کارروائی کے ابتدائی 100 گھنٹوں میں ہی 3.7 ارب ڈالر خرچ ہو چکے تھے جب کہ مجموعی اخراجات 25 سے 30 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔
ایرانی جوابی حملوں کے نتیجے میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو تقریباً 800 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔
توانائی کے شعبے کو بھی شدید دھچکا لگا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 9 ممالک میں کم از کم 40 توانائی تنصیبات متاثر ہوئیں جب کہ خلیجی ممالک کی آئل ریفائننگ صلاحیت میں 30 سے 40 فیصد کمی آئی ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں روزانہ 11 ملین بیرل تیل کی قلت پیدا ہو گئی۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ متاثرہ توانائی ڈھانچے کی بحالی کے لیے کم از کم 25 ارب ڈالر درکار ہوں گے جب کہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔