امریکا اور ایران کے درمیان ہفتہ کو پاکستان میں مذاکرات ہوں گے، وائٹ ہاؤس کی تصدیق
صدر ٹرمپ سخت انداز میں مذاکرات کرتے ہیں اور دنیا کو ان کی باتوں کو سنجیدہ لینا ہوگا، ترجمان
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہفتے کو پاکستان میں مذاکرات ہوں گے جس میں نائب صدر جے ڈی وینس وفد کی قیادت کریں گے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیوٹ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔ سابق مشیر جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے جو سرخ لکیریں طے کی تھیں، وہ تبدیل نہیں ہوئی ہیں۔ مذاکرات کار امریکی منصوبے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اہداف 38 دنوں میں حاصل کرلیے۔ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو سالوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران میں 13 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی بحریہ کو تباہ کردیا گیا اور اب ان کے پاس کوئی آبدوز نہیں ہے۔ ایران اپنی پراکسیز کو ہتھیار فراہم کرنے کے قابل نہیں رہا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ صدر ٹرمپ لبنان سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بات چیت جاری رکھیں گے تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ لبنان جنگ بندی کے معاہدے میں شامل نہیں ہے۔
کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ سخت انداز میں مذاکرات کرتے ہیں اور دنیا کو ان کی باتوں کو سنجیدہ لینا ہوگا۔ جے ڈی وینس نے ایران کے مسئلے پر اہم کردار ادا کیا ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ چین کے ساتھ اعلیٰ سطح پر بات چیت ہورہی ہے اور صدر ٹرمپ چند ہفتوں میں چین کا دورہ کرنے جارہے ہیں۔ ایران نے افزودہ یورینیم حوالے کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
