40 روزہ جنگ کے بعد عارضی جنگ بندی؛ عالمی منڈیوں پر اثرات برقرار
اس تنازعہ کے نتیجے میں توانائی کی عالمی سطح پر قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے گئے جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کی، 40 روزہ اس جنگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
40 روزہ اس جنگ میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدو رفت تقریباً بند ہوگئی جس سے عالمی سطح پر توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا۔
📍US-Israel-Iran War: Path to ceasefire
→ February 28 saw the start of 40 days of US-Israeli attacks on Iran, along with Iran’s retaliations, spread across the region, with global repercussions particularly via energy routes and the Strait of Hormuz
→ The conflict triggered a… pic.twitter.com/3A5gOrZmbR
— Anadolu English (@anadoluagency) April 8, 2026
اس تنازعہ کے نتیجے میں توانائی کی عالمی سطح پر قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا جس سے بین الاقوامی منڈیوں کے استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔
تاہم اپریل میں شروع ہونے والی مسلسل سفارتی کوششوں سے بلآخر کار جنگ بندی کی راہ ہموار ہوئی اور7 اپریل سے عارضی جنگ بندی کا آغاز ہوا جو ابھی تک قائم ہے۔