40 روزہ جنگ کے بعد عارضی جنگ بندی؛ عالمی منڈیوں پر اثرات برقرار

40 روزہ جنگ کے بعد عارضی جنگ بندی؛ عالمی منڈیوں پر اثرات برقرار

اس تنازعہ کے نتیجے میں توانائی کی عالمی سطح پر قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے گئے  جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کی، 40 روزہ اس جنگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

40 روزہ اس جنگ میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدو رفت تقریباً بند ہوگئی جس سے عالمی سطح پر توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا۔

اس تنازعہ کے نتیجے میں توانائی کی عالمی سطح پر قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا جس سے بین الاقوامی منڈیوں کے استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔

 تاہم اپریل میں شروع ہونے والی مسلسل سفارتی کوششوں سے بلآخر کار جنگ بندی کی راہ ہموار ہوئی اور7 اپریل سے عارضی جنگ بندی کا آغاز ہوا جو ابھی تک قائم ہے۔

Related posts

بھارتی دنیا بھر میں بدترین سیاحوں کے طور پر مشہور ہو رہے ہیں، بی بی سی

امریکا کے ایرانی جزیرہ قشم پر فوجی تنصیات پر حملے، متعدد ایرانی میزائل اورڈرون مارگرائے

متحدہ عرب امارات کا موسم: دبئی اور ابوظہبی میں نمی میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ دھول اڑ رہی ہے اور درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ کی پیش گوئی ہے