امریکا کے ایران پر بڑے حملے؛ ہزاروں اہداف تباہ، سیکیورٹی نیٹ ورک نشانے پر
ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور آئی آر جی سی کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف جاری ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کی تازہ تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق یہ آپریشن امریکی صدر ٹرمپ کی ہدایت پر 28 فروری 2026 کو شروع کیا گیا جس کے تحت ایران میں حساس اور اسٹریٹجک اہداف پر مسلسل کارروائیاں کی جارہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور آئی آر جی سی کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ ایرانی انٹیلی جنس مراکز اور ایئر ڈیفنس سسٹمز بھی حملوں کی زد میں ہیں۔
اس کے علاوہ بیلسٹک میزائل سائٹس اور ڈرون مینوفیکچرنگ یونٹس پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق ایرانی بحری جہازوں اور آبدوزوں پر کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں جب کہ اینٹی شپ میزائل سائٹس اور فوجی مواصلاتی نیٹ ورک کو بھی شدید نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ اسلحہ ذخیرہ کرنے والے بنکرز اور دیگر دفاعی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جب کہ 155 سے زائد ایرانی بحری جہاز یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا شدید متاثر ہوئے ہیں۔
آپریشن میں امریکی فضائیہ کے بی-2، بی-52 اور ایف-35 طیارے شامل ہیں جب کہ ایف-22، ایف-18 اور اے-10 طیارے بھی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ڈرونز، ریکونیسنس طیارے اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں امریکی بحری بیڑے، ایئرکرافٹ کیریئرز اور آبدوزیں بھی اس آپریشن کا حصہ ہیں جب کہ زمینی دفاع کے لیے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل سسٹمز فعال ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈر کے مطابق اس آپریشن کا مقصد ایران کے سیکیورٹی نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے۔ آپریشن کے دوران اب تک 373 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔
