شمالی کوریا کی انٹیلی جنس ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی نوعمر بیٹی کو ان کی ممکنہ جانشین سمجھا جارہا ہے۔
جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس (این آئی ایس) کے مطابق کم جونگ اُن کی بیٹی کا نام کم جو اے ہے اور ان کی عمر تقریباً 13 سال ہے۔ وہ 2022 کے آخر سے اپنے والد کے ساتھ کئی اہم تقریبات میں شریک ہورہی ہیں۔
پچھلے مہینے دونوں نے ایک ساتھ ٹینک میں سواری کی جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں تیز ہوگئیں کہ اس لڑکی کو شمالی کوریا کی مستقبل کی رہنما کے طور پر تیار کیا جارہا ہے۔
پیر کو جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی میں بند کمرے کی بریفنگ ہوئی جس میں شامل ایک سیاست دان لی سونگ گیون نے میڈیا کو بتایا کہ بریفنگ کے دوران این آئی ایس کے ڈائریکٹر لی جونگ سیوک نے کہا کہ کم جونگ ان کی بیٹی کو ان کا جانشین تصور کیا جاسکتا ہے۔
این آئی ایس نے واضح کیا کہ یہ اندازہ ایجنسی کے پاس موجود ’’قابل اعتماد انٹیلی جنس‘‘ کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔
کم جونگ ان کی بہن کم یو جونگ کو طویل عرصے سے شمالی کوریا کی دوسری سب سے بڑی شخصیت سمجھا جاتا تھا لیکن ان کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈائریکٹر نے کہا کہ ان کے پاس کوئی خاص اختیارات نہیں ہیں۔
این آئی ایس کا یہ اب تک کا سب سے مضبوط اندازہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کم جونگ ان کی نوعمر بیٹی کے سیاسی مقام میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ایجنسی کو یقین ہے کہ وہ خاندانی حکمرانی کو چوتھی نسل تک لے جاسکتی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 2024 کے اوائل میں این آئی ایس نے اس بچی کو کم جونگ ان کا ممکنہ وارث قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شمالی کوریا کی مستقبل کی رہنما کے طور پر نامزد ہونے کے قریب ہے۔
تاہم کچھ مبصرین اس اندازے سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا معاشرہ انتہائی مردانہ ہے اور وہ کسی خاتون رہنما کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اس کے علاوہ 42 سالہ کم جونگ ان خود بہت کم عمر ہیں کہ وہ اپنا جانشین نامزد کریں اور ایسا کرنے سے ملک پر ان کی گرفت کمزور ہوسکتی ہے۔
مارچ میں ایک عوامی تقریب کے دوران کم جونگ ان اور ان کی بیٹی نے ایک اسلحے کی فیکٹری کا دورہ بھی کیا تھا جس دوران دونون نے پستول سے فائرنگ کا بھی مظاہرہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کم جو اے باضابطہ طور پر ’’جانشین نامزد‘‘ کیے جانے کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں
پیر کی بریفنگ میں این آئی ایس نے بتایا کہ شمالی کوریا کے حکام نے اس طرح کے واقعات کو منظم کیا ہے تاکہ اس لڑکی کی فوجی قابلیت کو اجاگر کیا جاسکے اور ’’خاتون جانشین کے بارے میں شکوک و شبہات کو کم کیا جاسکے‘‘۔
خیال رہے کہ شمالی کوریا 1948 میں قائم ہوا تھا اور اس پر اب تک کم خاندان کے مرد ارکان ہی حکمران رہے ہیں۔
کم جونگ ان نے 2011 کے آخر میں اپنے والد کم جونگ ال کی وفات کے بعد اقتدار سنبھالا تھا جب کہ کم جونگ ال نے 1994 میں اپنے والد اور بانی کم ال سنگ کی وفات کے بعد کنٹرول حاصل کیا تھا۔
